"> افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مقاومت میں شدت

افغانستان: طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت، 12 صوبوں میں حملے

افغانستان کے 12 صوبوں میں مزاحمتی گروہوں کے پے در پے حملوں کے دوران طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک اور عسکری تنصیبات تباہ ہو گئیں۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مقاومت میں شدت

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مقاومت میں شدت، 12 صوبوں میں 18 سے زائد حملے اور طالبان اہلکاروں کی ہلاکت پر مبنی خبر۔

October 19, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آ گئی ہے۔ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ملک کے 12 صوبوں میں 18 سے زائد کارروائیاں کی گئیں، جن میں 38 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

مزاحمتی تنظیم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار، ہلمند، غور اور اسپن بولدک میں شدید حملے کیے، جن میں طالبان کمانڈر رحیم اللہ روحانی سمیت کئی اہلکار ہلاک اور متعدد عسکری گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے لوگر، بغلان اور پنجشیر میں طالبان انٹیلی جنس اور پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جبکہ دیگر گروہوں نے ہرات، ننگرہار اور بامیان میں اسلحہ ڈپوؤں پر راکٹ باری کی۔

ملک کے بڑے حصے میں مسلسل حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کا جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی پر مبنی نظام شدید داخلی عدم استحکام اور عوام کی شدید ترین مسلح مخالفت کا شکار ہو چکا ہے۔

دیکھیے: روسی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سکیورٹی تعاون پر گفتگو

متعلقہ مضامین

سعودی سفیر راجح طامی البقمی نے جی ایچ کیو میں عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں مکہ دفاعی معاہدے، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی۔

October 19, 2026

سرگئی لاوروف ایران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں علاقائی کشیدگی، جنگ کے خاتمے اور دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔

October 19, 2026

چاغی کے دشوار گزار علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران تین دہشت گرد ہلاک اور ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 19, 2026

مولانا فضل الرحمان کا سیاسی سفر: اصول یا مصلحت؟ کشمیر کمیٹی سے ڈی آئی خان کے نتائج تک ایک مختصر جائزہ۔

October 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *