افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آ گئی ہے۔ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ملک کے 12 صوبوں میں 18 سے زائد کارروائیاں کی گئیں، جن میں 38 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مزاحمتی تنظیم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار، ہلمند، غور اور اسپن بولدک میں شدید حملے کیے، جن میں طالبان کمانڈر رحیم اللہ روحانی سمیت کئی اہلکار ہلاک اور متعدد عسکری گاڑیاں تباہ ہوئیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے لوگر، بغلان اور پنجشیر میں طالبان انٹیلی جنس اور پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جبکہ دیگر گروہوں نے ہرات، ننگرہار اور بامیان میں اسلحہ ڈپوؤں پر راکٹ باری کی۔
ملک کے بڑے حصے میں مسلسل حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ طالبان کا جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی پر مبنی نظام شدید داخلی عدم استحکام اور عوام کی شدید ترین مسلح مخالفت کا شکار ہو چکا ہے۔
دیکھیے: روسی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سکیورٹی تعاون پر گفتگو





