افغان طالبان کے ایک اہلکار کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے، جس میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے دیسی ساختہ بم بنانے کی طریقہ کار بتایا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد افغان طالبان انتظامیہ کا منافقانہ چہرہ اور ان کی دہرے معیار پر مبنی پالیسی دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے۔
اس تشویش ناک اقدام کے بعد سامنے آنے والے شدید ردعمل میں طالبان حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے ایک طرف تو افغانستان میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں، جبکہ دوسری جانب نوجوان لڑکوں کو بم بنانے، تشدد پھیلانے اور دہشت گردی کی تربیت دینے میں مصروف ہیں۔
ردعمل کے مطابق افغان طالبان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مسلح کارروائیوں اور تشدد کی ترغیب دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے خود کو مظلوم اور ذمہ دار حکومت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ مواد کی پردہ پوشی اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
افغانستان کی موجودہ ابتر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان معاشرے کو تعلیم سے محروم کر کے شدت پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط پر فوری نظرثانی کرے۔
بیان کے اختتام پر عالمی اداروں سے زوردار تقاضا کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت پر سخت معاشی و سیاسی پابندیاں عائد کی جائیں، انہیں بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر تنہا کیا جائے اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے پر ان کے خلاف عالمی قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔





