سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے پاکستان کے خلاف حالیہ بیان بازی پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے یہ بیانات کسی غیر جانبدار تجزیے پر مبنی نہیں بلکہ اپنے ناکام طالبان معاہدے کے دفاع کی ایک کوشش ہیں۔
خطے میں طالبان کے زیرِ سرپرستی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے ثبوتوں کے باوجود زلمے خلیل زاد کا خاموش رہنا اور تمام تر ملبہ پاکستان پر ڈالنا ان کی کھلی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ کشمیر ہو، فلسطین ہو یا پھر افغانستان۔ اس کے برعکس خلیل زاد کی جانب سے صرف پاکستان کو نشانہ بنانا ان کا یکطرفہ اور تعصب پر مبنی رویہ واضح کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیل زاد کی پالیسیوں کے باعث افغانستان میں مسلح گروہوں کو طاقت ملی، جس کی قیمت آج افغان عوام اپنی جانیں دے کر چکا رہے ہیں۔ وہ ایک معتبر تجزیہ کار کے بجائے طالبان کے وکیل کا روپ دھار چکے ہیں۔
کسی بھی دوسرے ملک کو نصیحت کرنے سے پہلے خلیل زاد کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی موجودہ دلدوز صورتحال میں اپنے کردار کا اعتراف کریں۔ انہی کے فیصلوں کی بدولت آج وہ سخت گیر عناصر اقتدار میں ہیں جنہوں نے افغانستان کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔
ان کا حالیہ پاکستان مخالف بیانیہ اور ٹویٹس دراصل اپنے تباہ شدہ سیاسی و سفارتی کیریئر کو بچانے کی ایک کوشش ہیں، جس کا حقیقت اور شفاف تجزیے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔





