"> طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی حملوں میں تیزی،
مولانا فضل الرحمان کی سیاست

مولانا کا طرزِ سیاست

دین کے نام پر سیاست اور اقتدار ملتے ہی خاندانی نوازشات؟ جانیے مولانا فضل الرحمن کی خاندانی سیاست، وزارتِ مواصلات میں کرپشن اور کارکنوں کی محرومی کا پورا سچ۔

طالبان مخالف مزاحمت میں شدت، 5 دنوں میں 7 صوبوں کے اندر 10 کارروائیاں

افغانستان کے 7 صوبوں میں مختلف مزاحمتی گروہوں کی 10 کارروائیوں میں طالبان کے 13 اہلکار ہلاک اور متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
افغانستان، طالبان رجیم، افغان مزاحمتی گروہ

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی حملوں میں تیزی۔ پانچ دنوں کے اندر 7 صوبوں میں 10 کارروائیوں اور سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی خبر۔

October 24, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف کام کرنے والے مختلف مسلح مزاحمتی گروہوں نے اپنی کارروائیوں میں اچانک تیزی پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ملک کے 7 مختلف صوبوں میں 10 سے زائد حملے کیے گئے ہیں۔

مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق ان حالیہ کارروائیوں میں طالبان رجیم کے کم از کم 13 اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد فوجی گاڑیاں تباہ کر دی گئیں اور اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

حملوں کا آغاز 18 اکتوبر کو ہوا جب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے صوبہ ہلمند میں طالبان کے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ اس کے اگلے ہی دن، 19 اکتوبر کو اسی گروپ نے قندھار کے ضلع ارغنداب میں ایک اور اہلکار کو کا نشانہ بنایا۔

اے یو ایف نے 21 اکتوبر کو غزنی کے ضلع قرہ باغ میں ایک پولیس اہلکار کو مار کر اس کا اسلحہ قبضے میں لیا۔ بعد ازاں 22 اکتوبر کو ہلمند، لشکرگاہ اور کاپیسا میں 4 مختلف کارروائیوں کے دوران مزید 5 اہلکار ہلاک اور ایک رینجر گاڑی تباہ کر دی گئی۔

دیگر گروہوں کی جانب سے بھی الگ الگ صوبوں میں طالبان فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ 21 اکتوبر کو افغان گرین ٹرینڈ نے صوبہ بدخشاں کی کشم-فیض آباد شاہراہ پر طالبان کی 219ویں بریگیڈ کی ایک فوجی گاڑی کو بم سے تباہ کر دیا۔

افغان فریڈم فرنٹ نے 20 اکتوبر کو پروان کے مقام پر طالبان کی چوکی پر حملہ کر کے 3 اہلکاروں کو ہلاک اور 2 کو زخمی کیا۔ 21 اکتوبر کو تخار میں انٹیلی جنس یونٹ پر حملہ کر کے ایک اہلکار اور افسر سمیت 4 کو نشانہ بنایا۔

اسی طرح نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے 19 اکتوبر کو ہرات میں طالبان کی رینجر گاڑی کو نشانہ بنایا، جبکہ 21 اکتوبر کو ننگرہار میں گھات لگا کر کیے گئے ایک اور حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ان کارروائیوں کا پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو روز بروز شدید سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے پاکستان مخالف بیانات دراصل ان کے اپنے ناکام طالبان معاہدے اور تباہ شدہ سفارتی کیریئر کو بچانے کی ایک کوشش ہیں۔

October 24, 2026

دین کے نام پر سیاست اور اقتدار ملتے ہی خاندانی نوازشات؟ جانیے مولانا فضل الرحمن کی خاندانی سیاست، وزارتِ مواصلات میں کرپشن اور کارکنوں کی محرومی کا پورا سچ۔

October 24, 2026

پنجگور کے دو کم عمر بھائیوں نے دہشت گرد تنظیم سے لاتعلقی اور سرنڈر کا اعلان کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ٹک ٹاک کے ذریعے رابطے کے بعد پیسوں کا لالچ دیا گیا۔

October 24, 2026

1947 سے اب تک آزاد کشمیر نے تعلیم، صحت اور سڑکوں کے شعبے میں غیر معمولی ترقی کی ہے، جس کے بعد فسادی ایکشن کمیٹی کا 78 سالہ استحصال کا بیانیہ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

October 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *