پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے اور بالخصوص الخلیل شہر کو مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز اور دھمکی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی ناکہ بندی کی یہ تجویز فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم اور کشیدگی میں ایک اور خطرناک اور تشویشناک اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ انسانی حقوق کی سنگین ورزی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی آبادکاری، فلسطینی زمینوں پر ناجائز قبضے اور علاقائی توسیع کے اقدامات مظلوم فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر رہے ہیں، جس سے ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ تمام اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کسی بھی قسم کی اسرائیلی آبادکاری کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جواب دہ ٹھہرائے اور مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔
پاکستان نے اپنے اس اصولی اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔





