ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں اکثر و بیشتر مظلوم کی داد رسی کے لیے اٹھنے والا ہاتھ مدد کا نہیں بلکہ مکاری کا ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر ہمدردی کا نقاب اوڑھے بااثر، امیر اور مقتدر حلقے مظلوموں کو دلاسہ دیتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے وہی طاقتور طبقہ قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، شواہد کو مسخ کرنے اور انصاف کی بولی لگانے میں مصروف رہتا ہے۔
حال ہی میں مختلف حلقوں کی جانب سے سنگین جنسی زیادتی اور قتل کے مقدمات پر آنے والے انکشافات نے اس تلخ سچائی کو ایک بار پھر عریاں کر دیا ہے۔ یہ سوال اب ہر باضمیر انسان کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ جنہیں ہم انصاف کا ضامن یا مظلوم کا مددگار سمجھتے ہیں، وہ واقعتاً مددگار ہیں یا محض مکار؟
سنگین ترین بات یہ انکشاف ہے کہ جنسی زیادتی کے ایک کیس میں ملزم کے امیر خاندان نے متاثرہ خاتون کو اپنے الزامات واپس لینے کے بدلے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی بھاری رقم کی پیشکش کی، اور ساتھ ہی کیس سننے والے جج کو رشوت دینے کا الزام بھی سامنے آیا۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی بالادستی پر ایک زبردست طمانچہ ہے بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ پیسہ کس طرح مظلوم کی آواز کو دبانے اور انصاف کی منصب پر بیٹھے اداروں کو خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔
جب ایک طاقتور ملزم اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے کروڑوں روپے اچھالتا ہے، تو وہاں انصاف محض ایک تجارتی جنس بن کر رہ جاتا ہے، جہاں غریب اور لاچار خاتون کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچتی۔
دوسری جانب حنا جاوید قتل و زیادتی کیس اور غیر ملکی خاتون کے مقدمات پر نظر ڈالی جائے تو تفتیشی اداروں کا کردار بھی شدید شک و شبہات کی زد میں آتا ہے۔ راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے بعد اہلخانہ کا یہ الزام کہ تفتیشی ٹیم شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر کے اصل ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نظام کے اندر موجود کالی بھیڑیں مددگار بن کر دراصل مکاری کا کھیل کھیل رہی ہیں۔
ایک طرف حکومتی شخصیات اور تفتیشی کارندے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ قانون اپنا راستہ بنائے گا، اور دوسری طرف پسِ پردہ معاملات کو یوں لپیٹا جاتا ہے کہ تمام تر ملبہ کسی بے بس ملازم پر ڈال کر اصل بااثر کرداروں کو صاف بچا لیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عزم اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب ہر طرف مددگار نہیں، مکار چہرے مسلط ہوں تو مظلوم کو کون پناہ دے؟ کیا محض سوشل میڈیا بیانات سے اس فرسودہ نظام کو بدلا جا سکتا ہے؟ جب تک تفتیشی عمل میں موجود کالی بھیڑوں اور قانون کی چادر اوڑھ کر مددگار نہیں بلکہ مکار بننے والوں کا کٹا ہوا سر سرِعام نہیں لٹکایا جاتا، تب تک اس معاشرے میں کوئی بے بس محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ وہ مکاری ہے جو قانون کی کتابوں کے پیچھے چھپ کر غریبوں کا لہو چوستی ہے اور خود کو مددگار نہیں بلکہ مکار ثابت کرتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقانہ چہرے کو بے نقاب کیا جائے جو مظلوم کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیٹھ میں خنجر گھونپتا ہے اور اصل میں مددگار نہیں بلکہ مکار ہوتا ہے۔ ریاست اور اداروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انصاف کوئی بازار میں بکنے والی شے نہیں ہے جسے کروڑوں روپے دے کر خریدا جا سکے۔
اگر اس ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے تو ہر اس شخص کو کٹہرے میں لانا ہوگا جو مددگار نہیں بلکہ مکار مافیا کی طرح نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے، ورنہ یہ معاشرہ مظلوموں کے لیے محض ایک قبرستان بن کر رہ جائے گا۔





