حالیہ دنوں میں چین اور بھارت ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اروناچل پردیش کے قریب چینی فوج کی مبینہ نقل و حرکت کی خبریں آئیں، سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور دعوے پھیلے، اور اسی دوران دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھے۔ اس صورتحال میں سوال اٹھتا ہے کہ اصل جھگڑا کیا ہے، کون کیا کہہ رہا ہے، اور کیا واقعی کسی نے کسی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے؟ آئیے ایک ایک بات آسان انداز میں دیکھتے ہیں۔
جھگڑے کی بنیاد
دونوں ملکوں کی سرحد بہت لمبی ہے، مگر اس کا بڑا حصہ باہمی رضامندی سے کبھی طے نہیں ہوا۔ اسے یوں سمجھیں کہ دو پڑوسیوں کے درمیان کوئی پکی دیوار نہیں، اور دونوں کے پاس اپنے اپنے پرانے کاغذات ہیں۔ جب دونوں اپنے کاغذ کے مطابق زمین پر چلنے لگیں تو ٹکراؤ ہو جاتا ہے۔ سرحد کے تین حصے ہیں: مشرق میں اروناچل پردیش، درمیان میں ہماچل اور اتراکھنڈ کے کچھ علاقے، اور مغرب میں لداخ۔ موجودہ بحث کا مرکز مشرقی حصہ، یعنی اروناچل ہے۔
چین کا مؤقف
چین اروناچل کو جنوبی تبت کہتا ہے اور اس کے بڑے حصے پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد میک موہن لائن کو نہ ماننا ہے، جو 1914 میں برطانوی ہند اور تبت کے نمائندوں کی بات چیت کے دوران کھینچی گئی تھی۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ سمجھوتہ اس کی منظوری کے بغیر ہوا اور اس کی کبھی توثیق نہیں کی گئی۔ اسی لیے چین اس علاقے پر بھارت کے انتظامی کنٹرول کو جائز نہیں مانتا، اور اس نقطۂ نظر سے وہ بھارت کو قابض قرار دیتا ہے۔
بھارت کا مؤقف
بھارت اس کے بالکل برعکس کہتا ہے کہ اروناچل اس کی ریاست اور اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔ وہ میک موہن لائن کو اپنی مشرقی سرحد کی بنیاد سمجھتا ہے اور چین کے دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ یوں قابض کا لفظ چین کے مؤقف کی زبان ہے، جبکہ بھارت اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ کہتا ہے۔ جب تک کوئی باہمی معاہدہ یا متفقہ فیصلہ نہیں ہوتا، یہ دونوں دعوے اپنی اپنی جگہ قائم رہیں گے۔
نقشوں اور ناموں کی جنگ
یہ لڑائی صرف زمین پر نہیں بلکہ نقشوں اور ناموں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ چین مقامات کے اپنے نام رکھتا ہے، اور بھارت نے اگست میں اروناچل کے 27 مقامات کے سرکاری نام اپنے نقشوں پر درج کیے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دو فریق ایک ہی گلی کو الگ الگ نام سے پکاریں۔ مغرب میں بھی ایسا ہی معاملہ ہے، جہاں اکسائی چن پر چین کا عملی کنٹرول ہے مگر بھارت اسے اپنا علاقہ کہتا ہے۔ یعنی دعوے دونوں طرف سے ہیں۔
ایل اے سی کیا ہے؟
خبروں میں بار بار ایل اے سی کا ذکر آتا ہے، یعنی لائن آف ایکچوئل کنٹرول۔ یہ وہ لکیر ہے جہاں تک دونوں فوجیں عملاً موجود ہیں۔ اسے باقاعدہ حد بندی شدہ بین الاقوامی سرحد نہیں مانا جاتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی مقامات پر دونوں ملک اس لکیر کو الگ جگہ سمجھتے ہیں۔ ایک تجزیے کے مطابق جب زمین پر باہمی طور پر نشان زد سرحد نہ ہو تو ایک ہی گشت کو دونوں فریق بالکل مختلف انداز میں بیان کر سکتے ہیں۔ ایک کے لیے یہ اپنے علاقے میں گشت ہے اور دوسرے کے لیے دراندازی۔
اگست میں اروناچل کے علاقے ٹکسنگ کے قریب چینی دراندازی کے دعوے سامنے آئے۔ بھارتی رکنِ پارلیمان کرن رجیجو نے ساٹھ کلومیٹر اندر گھسنے کی بات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ایسا نہیں کہ چینی آ کر علاقہ لے گئے ہوں۔ دوسری طرف اپر سبانسری کے علاقے میں چینی فوج کی جارحانہ سرگرمی کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی اور فوجی سرگرمی کی خبریں موجود ہیں، مگر بڑے علاقے پر قبضے کی آزاد تصدیق اب تک سامنے نہیں آئی۔ وائرل ویڈیوز میں بھی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ بعض ویڈیوز کا بعد میں اروناچل سے تعلق ہی نہ ہونا ظاہر ہوا۔
مذاکراتی سلسلہ
خوش آئند بات یہ ہے کہ مذاکرات رکے نہیں۔ 25 اگست 2026 کو بیجنگ میں دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کی پچیسویں ملاقات ہوئی، جس میں آٹھ نکات پر اتفاق ہوا۔ اگلی ملاقات 2027 میں بھارت میں ہو گی۔ اس کے بعد ستمبر میں واچا اور دمائی کے مقامات پر دونوں فوجوں کے کمانڈروں کی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ یعنی اختلاف کے باوجود دونوں حکومتیں رابطہ برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
اس کی تین الگ صورتیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ چین جس علاقے کو اپنا سمجھتا ہے وہاں گشت کرے۔ دوسری یہ کہ دونوں فوجیں آمنے سامنے آ جائیں کیونکہ لکیر کے بارے میں ان کی سمجھ مختلف ہے۔ تیسری یہ کہ کوئی فوج مانی ہوئی حد پار کر کے کسی علاقے پر مستقل کنٹرول قائم کر لے۔ پہلی دو صورتیں اس سرحد پر پہلے بھی پیش آتی رہی ہیں، جبکہ تیسری کو ثابت کرنے کے لیے واضح مقام، تاریخ اور آزاد شواہد درکار ہیں۔ اس لیے ہر چینی گشت کو قبضہ کہنا درست نہیں، مگر اسے مکمل طور پر معمولی بات سمجھنا بھی ٹھیک نہیں۔
یہ تنازع صرف زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ تاریخ کی مختلف تشریحوں اور باہمی بداعتمادی کا بھی ہے۔ چین کا بھارت کو قابض کہنا اور بھارت کا اروناچل کو اٹوٹ حصہ قرار دینا، دونوں سیاسی اور قانونی مؤقف ہیں جن کے پیچھے اپنے اپنے دلائل ہیں۔ جب تک پوری سرحد پر ایک مشترکہ نقشے پر اتفاق نہیں ہوتا، غلط فہمی اور کشیدگی کا خطرہ رہے گا۔ مذاکرات اور فوجی رابطے اس خطرے کو کم ضرور کرتے ہیں، مگر حتمی حل ابھی دور ہے۔ قاری کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر خبر کو پرکھ کر پڑھے: دیکھے کہ دعویٰ کس نے کیا، ثبوت کیا ہے، اور دوسرا فریق کیا کہتا ہے۔





