یہ جملہ سن کر آپ حیران نہ ہوں۔۔
چلیں میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔۔
رات کے دو بج رہے تھے۔
شہر کے ایک پوش علاقے میں اچانک ایک لڑکی کی چیخ گونجی۔
پولیس پہنچی تو ایک نوجوان لڑکی زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، ہاتھ پر زخم تھا اور سامنے ایک بوڑھا شخص بے بسی سے کھڑا تھا۔
لڑکی نے پولیس کو بتایا:
اس شخص نے مجھے گھر میں اکیلا دیکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔۔
پولیس نے فوراً بوڑھے کو گرفتار کر لیا۔
اگلی صبح سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی۔
لڑکی کا نام نتاشہ تھا۔
شہر بھر میں اس کے لیے انصاف کا مطالبہ شروع ہوگیا۔
:ٹی وی چینلز پر بحث چھڑ گئی۔ بوڑھے کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا
انسانیت کے روپ میں درندہ۔۔
چند ہی ہفتوں میں مقدمہ عدالت پہنچا۔ نتاشہ کے حق میں شواہد سامنے آئے اور بوڑھے کو سزا ہوگئی۔
لوگ خوش تھے۔
نتاشہ کو انصاف مل گیا تھا۔۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔۔
ٹھیک چھ ماہ بعد، شہر کے دوسرے کنارے پر ایک اور واقعہ پیش آیا۔
ایک اور لڑکی، وہی نام، نتاشہ ۔۔
اس مرتبہ ملزم ایک 72 سالہ شخص تھا جو ایک چھوٹے سے مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کی بیوی مر چکی تھی، بیٹا بیرونِ ملک تھا اور وہ اپنی دوائیوں اور پنشن کے سہارے زندگی گزار رہا تھا۔
لڑکی کا الزام بھی تقریباً وہی تھا۔
!تشدد، بدسلوکی، جان سے مارنے کی دھمکی
بوڑھا پولیس کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا۔
صاحب! یہ میرے گھر آئی تھی۔ میں نے اسے پانی پلایا، کھانا دیا۔ اس نے مجھ سے کچھ کاغذات پر انگوٹھا لگانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا تو اس نے اپنا دوپٹہ پھاڑ دیا، شور مچایا اور مجھے دھمکی دی کہ اب تم جیل میں مرو گے ۔۔
لیکن کسی نے اس کی بات نہیں سنی۔
پولیس اسے گھسیٹ کر گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔
ایک صحافی نے اس کی تصویر کھینچی۔
اگلی صبح پھر وہی سرخی تھی:
نتاشہ کو انصاف دلایا جائے
ایک تصویر، جس نے پوری کہانی بدل دی ۔۔
ایک نوجوان تحقیقاتی صحافی نے دونوں واقعات کی خبریں دیکھیں۔
اسے کچھ عجیب لگا۔
دونوں لڑکیوں کا نام نتاشہ تھا۔
دونوں واقعات رات کے تقریباً ایک ہی وقت پیش آئے تھے۔
دونوں نے ایک جیسے الفاظ میں الزام لگایا تھا۔
دونوں واقعات میں پولیس کو اطلاع ایک ہی نامعلوم نمبر سے دی گئی تھی۔
اور سب سے حیران کن بات…
!دونوں لڑکیوں کے وکیل بھی ایک ہی تھے
صحافی نے چھان بین شروع کی۔
تین دن بعد اسے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج ملی۔
اس میں دوسری نتاشہ بوڑھے کے گھر سے نکلتے ہوئے ایک شخص کو فون کر رہی تھی۔
آواز صاف سنائی نہیں دے رہی تھی، لیکن چند سیکنڈ بعد وہ دوبارہ گھر میں داخل ہوئی۔
پھر چیخنے کی آواز آئی۔
صحافی نے بوڑھے سے جیل میں ملاقات کی۔
بوڑھے نے روتے ہوئے کہا:
بیٹا! میری ایک ہی غلطی تھی۔ میں نے اپنا مکان بیچنے سے انکار کر دیا تھا۔۔
یہ سنتے ہی صحافی چونک گیا۔
کیونکہ پہلی واردات میں سزا پانے والے بوڑھے کے گھر پر بھی اب ایک بلڈر کا قبضہ تھا۔۔
دو نتاشائیں یا ایک ہی منصوبہ؟
تحقیقات آگے بڑھیں تو معلوم ہوا کہ دونوں لڑکیاں ایک منظم گروہ کے لیے کام کرتی تھیں۔
ان کا اصل نام نتاشہ نہیں تھا۔
وہ تنہا، بے سہارا اور کمزور بزرگوں کو نشانہ بناتیں۔ پہلے ان کے قریب جاتیں، پھر انہیں کسی قانونی تنازع یا سنگین الزام میں پھنسا دیتیں۔
مقصد صرف ایک تھا۔
بزرگوں کو اتنا بے بس کر دو کہ وہ اپنی جائیداد چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
پہلے بوڑھے نے مقدمے کے دوران اپنا مکان گروہ کے حوالے کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود اسے سزا سے نجات نہ مل سکی۔
دوسرے بوڑھے نے انکار کر دیا تھا۔
اسی لیے وہ جیل میں تھا۔
صحافی نے تمام ثبوت عدالت میں پیش کیے۔ پولیس کے ایک افسر، دونوں لڑکیوں، وکیل اور پراپرٹی مافیا کے درمیان رابطوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
عدالت نے دونوں مقدمات کی ازسرنو تحقیقات کا حکم دیا۔
بالآخر دونوں بزرگوں کے خلاف جھوٹے الزامات بے نقاب ہوگئے۔ پہلے بزرگ کی سزا کالعدم قرار پائی، دوسرے کو باعزت بری کیا گیا اور اصل ملزمان کو قانون کے مطابق سزائیں سنائی گئیں۔
دونوں عائشاؤں کو بھی انصاف مل گیا۔
مگر اس مرتبہ انصاف ان کے حق میں نہیں، ان کے کیے ہوئے ظلم کے خلاف ہوا تھا۔
عدالت کے باہر صحافیوں کی بھیڑ تھی۔
72 سالہ بزرگ لاٹھی کے سہارے باہر نکلا۔
صحافی نے مائیک آگے بڑھایا۔
’’بابا جی! آج آپ کو انصاف مل گیا، کیا آپ خوش ہیں؟‘‘
بوڑھے نے نم آنکھوں سے کیمروں کی طرف دیکھا اور کہا:
بیٹا! جب وہ لڑکی روئی تھی تو پورا شہر اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ جب میں رویا تو پولیس مجھے اٹھا کر لے گئی۔۔
پھر چند لمحے خاموش رہا۔
میں عورت کے انصاف کے خلاف نہیں ہوں۔ میں تو صرف یہ پوچھتا ہوں کہ کیا ایک غریب بوڑھے کے آنسوؤں کی کوئی گواہی نہیں ہوتی؟
صحافی نے آخری سوال کیا:
آپ ان دونوں لڑکیوں سے کچھ کہنا چاہیں گے؟
بوڑھے نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی۔
تصویر میں وہ اپنی مرحوم بیوی کے ساتھ کھڑا تھا۔
اس نے تصویر کو چوما اور کہا:
انہوں نے میرا گھر چھیننے کی کوشش کی تھی، لیکن میرا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ میری بیوی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی۔ آج عدالت نے میرا گھر واپس کر دیا ہے، مگر مجھے کوئی یہ بتا دے کہ میری بیوی کس عدالت سے واپس ملے گی؟
پورے مجمع پر خاموشی چھا گئی۔
اگلے دن اخبار کی سرخی بدلی ہوئی تھی۔
پہلے لکھا تھا ۔۔
نتاشہ کو انصاف مل گیا ۔۔
آج لکھا تھا ۔۔
دو نتاشاؤں کو سزا مل گئی، مگر ایک بوڑھا آج بھی انصاف کا منتظر ہے ۔۔
کیونکہ ہر رونے والا مظلوم نہیں ہوتا،
ہر خاموش شخص ظالم نہیں ہوتا،
اور انصاف کا فیصلہ شور نہیں،
ثبوت کرتے ہیں۔۔
یہ ایک فرضی کہانی ہے ۔۔
اس میں ہم نے خود کو ایک امید دلائی ہے۔۔
کہ شاید کمزور کو انصاف مل سکے ۔۔
ایسی بیش بہا نتاشائیں سڑکوں پر دندنا رہی ہیں ۔۔
کبھی کسی کو گاڑی کے ٹائروں تلے روند رہی ہیں ۔۔
تو کبھی راہ چلتوں پر تھپڑ برسا رہی ہیں۔۔
اور تو اور ۔۔
ببانگ دہل اپنے اس عمل پر غُرا بھی رہی ہیں ۔۔
کراچی کی ایک نتاشہ جس نے باپ بیٹی کو کچلا ۔۔ باعزت بری کردیا گیا۔۔
دوسری نتاشہ ۔۔
جس نے سڑک پر مجمع جمائے رکھا۔۔
غریب رکشہ ڈرائیور کر تھپڑ مارا ۔۔
گاڑیاں روکیں۔۔
موٹرسائیکلز الٹاتی رہی۔۔
اسے نفسیات کی ماہر ڈاکٹر گردانا جا رہا ہے۔۔
یہ رویہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔۔
لیکن اس کہانی کے لاچار بوڑھے کی طرح ہماری امید بھی ٹوٹی نہیں ہے ۔۔
اور لگتا ہے کہ ظلم کا سورج جو سوا نیزے پر طلوع ہے۔۔
ایک دن ضرور غروب ہوگا۔۔





