"> طالبان بھارت گٹھ جوڑ
وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

طلال چوہدری کا بیان

امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ طلال چوہدری

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

طالبان بھارت گٹھ جوڑ: پاکستان کی سلامتی کے خلاف دشمنوں کا نیا محاذ

بھارتی تجزیہ کار کے طالبان کو ڈرونز دینے کے مشورے اور خطے کی صورتِ حال کا مختصر جائزہ۔
طالبان بھارت گٹھ جوڑ

بھارتی تجزیہ کاروں کی جانب سے طالبان کو پاکستان کے خلاف ڈرونز دینے کی تجاویز دہلی اور کابل کے بڑھتے گٹھ جوڑ کو عیاں کرتی ہیں۔

October 31, 2026

سشانت سارین جیسے بھارتی تجزیہ کاروں کا طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف ڈرونز اور ہتھیار فراہم کرنے کا مشورہ کسی حیرت کا باعث نہیں ہے۔ یہ تجویز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت خطے میں اپنے پرانے کھیل کو ایک بار پھر افغانستان کے ذریعے دہرانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف دشمن عناصر کا یہ گٹھ جوڑ کوئی نیا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

طالبان کا طرزِ عمل یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے تاریخی احسانات، پناہ گزینوں کی میزبانی اور کئی دہائیوں کی بین الاقوامی حمایت کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ جس افغانستان کی پائیدار بقا اور وہاں کے لوگوں کے تحفظ کے لیے پاکستان نے گراں قدر قربانیاں دیں، آج وہی سر زمین پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور دشمنوں کا آلہ کار بننے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

اسرائیل، بھارت اور طالبان کا ایک ہی صفحے پر نظر آنا اور پاکستان کو مختلف محاذوں سے دباؤ میں لانے کی کوششیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ ایک طرف اگر بھارت اور اسرائیل اپنی اسلام مخالف اور پاکستان دشمن پالیسی پر گامزن ہیں، تو دوسری طرف طالبان کا ان کے ساتھ ہاتھ ملانا ان کے اپنے دعوؤں اور ترجیحات کی قلعی کھولتا ہے۔ یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ طالبان اپنے فائدے کے لیے کسی بھی نادیدہ گٹھ جوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان کی افواج اور عوام اس قسم کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری مغربی سرحدوں پر اگر دشمن کی نظر ہے تو پاکستان کو بھی اب اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو اب سخت سے سخت اور دوٹوک جواب دینے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی کو بھی پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں پر مکمل کنٹرول، دہشت گردانہ ٹھکانوں کا فوری خاتمہ اور بھارتی و افغان سازشوں کو عالمی اور دفاعی محاذ پر ناکام بنانا ہی ہماری سب سے پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان اپنی سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر کرنا جانتا ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان اور اقوام متحدہ کی پانچ روزہ عالمی کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے قدرتی آفات سے پہلے انتباہ اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

October 31, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

October 31, 2026

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

October 31, 2026

افغانستان کے 12 صوبوں میں مسلح مزاحمتی گروہوں کے 19 حملے طالبان انتظامیہ کے سکیورٹی کنٹرول اور ملک میں مکمل امن کے دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *