سشانت سارین جیسے بھارتی تجزیہ کاروں کا طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف ڈرونز اور ہتھیار فراہم کرنے کا مشورہ کسی حیرت کا باعث نہیں ہے۔ یہ تجویز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت خطے میں اپنے پرانے کھیل کو ایک بار پھر افغانستان کے ذریعے دہرانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف دشمن عناصر کا یہ گٹھ جوڑ کوئی نیا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔
طالبان کا طرزِ عمل یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے تاریخی احسانات، پناہ گزینوں کی میزبانی اور کئی دہائیوں کی بین الاقوامی حمایت کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ جس افغانستان کی پائیدار بقا اور وہاں کے لوگوں کے تحفظ کے لیے پاکستان نے گراں قدر قربانیاں دیں، آج وہی سر زمین پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور دشمنوں کا آلہ کار بننے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اسرائیل، بھارت اور طالبان کا ایک ہی صفحے پر نظر آنا اور پاکستان کو مختلف محاذوں سے دباؤ میں لانے کی کوششیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ ایک طرف اگر بھارت اور اسرائیل اپنی اسلام مخالف اور پاکستان دشمن پالیسی پر گامزن ہیں، تو دوسری طرف طالبان کا ان کے ساتھ ہاتھ ملانا ان کے اپنے دعوؤں اور ترجیحات کی قلعی کھولتا ہے۔ یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ طالبان اپنے فائدے کے لیے کسی بھی نادیدہ گٹھ جوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی افواج اور عوام اس قسم کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہماری مغربی سرحدوں پر اگر دشمن کی نظر ہے تو پاکستان کو بھی اب اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو اب سخت سے سخت اور دوٹوک جواب دینے کی ضرورت ہے، تاکہ کسی کو بھی پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں پر مکمل کنٹرول، دہشت گردانہ ٹھکانوں کا فوری خاتمہ اور بھارتی و افغان سازشوں کو عالمی اور دفاعی محاذ پر ناکام بنانا ہی ہماری سب سے پہلی اور آخری ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان اپنی سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر کرنا جانتا ہے۔





