وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صوبے کو دہشت گردی کے باعث مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے بعد دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک بات چیت کی، لیکن طے شدہ مسودے کی منظوری نہ مل سکی۔ ان کے مطابق عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس مد میں صوبے کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان وسائل سے صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے بقول صوبے میں 13 سال سے برسراقتدار جماعت نے عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم کی سیاست پر توجہ دی۔
خیبرپختونخوا کی قربانیاں
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ پاکستان کو اس جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں بچوں کی شہادت کا سانحہ آج بھی قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
شہباز شریف نے 2014 کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
ریلیف کے لیے 75 ارب مختص
وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر کام کیا۔ عالمی حالات اور خلیج میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔
ان کے مطابق اس اسکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی ترجیح غریب عوام کو ریلیف دینا اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانا ہے۔ مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔





