"> گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

طلال چوہدری کا بیان

امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ طلال چوہدری

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔
وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ناگزیر تھا، بروقت اقدام نہ ہوتا تو دہشت گردی سے صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

October 31, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ناگزیر حالات میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صوبے کو دہشت گردی کے باعث مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں آباد کیا گیا، جس کے بعد دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک بات چیت کی، لیکن طے شدہ مسودے کی منظوری نہ مل سکی۔ ان کے مطابق عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس مد میں صوبے کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان وسائل سے صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے بقول صوبے میں 13 سال سے برسراقتدار جماعت نے عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم کی سیاست پر توجہ دی۔

خیبرپختونخوا کی قربانیاں

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ پاکستان کو اس جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں بچوں کی شہادت کا سانحہ آج بھی قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

شہباز شریف نے 2014 کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

ریلیف کے لیے 75 ارب مختص

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر کام کیا۔ عالمی حالات اور خلیج میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔

ان کے مطابق اس اسکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی ترجیح غریب عوام کو ریلیف دینا اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانا ہے۔ مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

پاکستان اور اقوام متحدہ کی پانچ روزہ عالمی کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے قدرتی آفات سے پہلے انتباہ اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

October 31, 2026

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

October 31, 2026

افغانستان کے 12 صوبوں میں مسلح مزاحمتی گروہوں کے 19 حملے طالبان انتظامیہ کے سکیورٹی کنٹرول اور ملک میں مکمل امن کے دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

October 31, 2026

بھارتی تجزیہ کار کے طالبان کو ڈرونز دینے کے مشورے اور خطے کی صورتِ حال کا مختصر جائزہ۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *