افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح مخالفت میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حال ہی میں 25 سے 30 اکتوبر کے مختصر عرصے کے دوران مختلف مزاحمتی گروہوں کی جانب سے 12 صوبوں میں 19 منظم حملے کیے گئے، جن میں 22 طالبان اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ کارروائیوں کا یہ بڑھتا ہوا جغرافیائی پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ کابل میں قائم سیکیورٹی نظام کو اندرونی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان حملوں میں افغانستان کے مختلف سرگرم گروپس بشمول افغانستان اراضی فورس، افغان فریڈم فورس، نیشنل اسلامک فرنٹ اور افغان ریزسٹنس فورس پیش پیش ہیں۔ کابل، قندھار، غزنی، بدخشاں اور کاپیسا جیسے اہم علاقوں میں سیکیورٹی چوکیوں، انٹیلی جنس اہلکاروں اور رینجر گاڑیوں کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ گروہ مختلف علاقوں میں منظم اور متحرک ہیں۔
دوسری جانب افغان گرین ٹرینڈ کی جانب سے سامنے لائی گئی مبینہ انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق لغمان میں 400 سے زائد افراد کا مسلح مزاحمت کی طرف مائل ہونا اور بامیان میں لاجسٹک گاڑیوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام میں طالبان کی پالیسیوں کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت طالبان کے ان دعووں کی نفی کرتی ہے جن میں ملک بھر میں مکمل امن اور مضبوط کنٹرول کا تاثر دیا جاتا رہا ہے۔
یہ صورتِ حال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ صرف فوجی طاقت کے بل بوتے پر پائیدار استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر طالبان حکومت نے اندرونی عدم اطمینان، سیکیورٹی خلا اور عوام کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ اقدامات نہ کیے، تو یہ مسلح مزاحمت پورے خطے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی بحران پیدا کر سکتی ہے۔





