"> بارہ صوبوں میں 19 حملے: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت
وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کر رہے ہیں۔

گورنر راج نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

طلال چوہدری کا بیان

امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ طلال چوہدری

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

بارہ صوبوں میں 19 حملے: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت

افغانستان کے 12 صوبوں میں مسلح مزاحمتی گروہوں کے 19 حملے طالبان انتظامیہ کے سکیورٹی کنٹرول اور ملک میں مکمل امن کے دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
افغانستان میں مسلح مزاحمت

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت 12 صوبوں تک پھیل گئی۔ اکتوبر کے آخری ہفتے میں 19 حملوں اور 22 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت نے سکیورٹی صورتِ حال پر سوالات اٹھا دیے۔

October 31, 2026

افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح مخالفت میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حال ہی میں 25 سے 30 اکتوبر کے مختصر عرصے کے دوران مختلف مزاحمتی گروہوں کی جانب سے 12 صوبوں میں 19 منظم حملے کیے گئے، جن میں 22 طالبان اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔ کارروائیوں کا یہ بڑھتا ہوا جغرافیائی پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ کابل میں قائم سیکیورٹی نظام کو اندرونی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان حملوں میں افغانستان کے مختلف سرگرم گروپس بشمول افغانستان اراضی فورس، افغان فریڈم فورس، نیشنل اسلامک فرنٹ اور افغان ریزسٹنس فورس پیش پیش ہیں۔ کابل، قندھار، غزنی، بدخشاں اور کاپیسا جیسے اہم علاقوں میں سیکیورٹی چوکیوں، انٹیلی جنس اہلکاروں اور رینجر گاڑیوں کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ گروہ مختلف علاقوں میں منظم اور متحرک ہیں۔

دوسری جانب افغان گرین ٹرینڈ کی جانب سے سامنے لائی گئی مبینہ انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق لغمان میں 400 سے زائد افراد کا مسلح مزاحمت کی طرف مائل ہونا اور بامیان میں لاجسٹک گاڑیوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام میں طالبان کی پالیسیوں کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت طالبان کے ان دعووں کی نفی کرتی ہے جن میں ملک بھر میں مکمل امن اور مضبوط کنٹرول کا تاثر دیا جاتا رہا ہے۔

یہ صورتِ حال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ صرف فوجی طاقت کے بل بوتے پر پائیدار استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر طالبان حکومت نے اندرونی عدم اطمینان، سیکیورٹی خلا اور عوام کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ اقدامات نہ کیے، تو یہ مسلح مزاحمت پورے خطے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی بحران پیدا کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان اور اقوام متحدہ کی پانچ روزہ عالمی کانفرنس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے قدرتی آفات سے پہلے انتباہ اور خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

October 31, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہ کرتے تو صوبے کو دہشت گردی سے مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

October 31, 2026

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امان اللہ کے گھر موجود مہمان خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر متعدد مدارس کو نوٹسز جاری کر دیے۔

October 31, 2026

بھارتی تجزیہ کار کے طالبان کو ڈرونز دینے کے مشورے اور خطے کی صورتِ حال کا مختصر جائزہ۔

October 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *