ابو زبیدہ، جس کا اصل نام زین العابدین محمد حسین بتایا جاتا ہے، نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی امریکہ کی نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا وہ پہلا قیدی تھا جس پر سی آئی اے نے تشدد کے انتہائی طریقے آزمائے۔ انہیں مارچ 2002 میں پاکستان کے شہر فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا، اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود ان کی گرفتاری کا اعلان کیا اور انہیں القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی قرار دیا گیا۔
تاہم اب دو دہائیوں بعد خود امریکی حکومت اس الزام سے دستبردار ہو چکی ہے، مگر ابو زبیدہ آج بھی گوانتانامو بے جیل میں بغیر کسی الزام یا سزا کے قید ہیں۔
فیصل آباد سے بلیک سائٹس تک: گرفتاری کے بعد کا سفر
پاکستان سے گرفتاری کے بعد ابو زبیدہ کو پہلے تھائی لینڈ منتقل کیا گیا، جہاں سی آئی اے کی خفیہ جیل میں کئی ماہ تک بدترین تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پولینڈ، لیتھونیا اور دیگر یورپی ممالک میں قائم سی آئی اے کی بدنام زمانہ ’’بلیک سائٹس‘‘ میں رکھا گیا۔ یہ وہ خفیہ حراستی مراکز تھے جہاں امریکی عدالتی نظام لاگو نہیں ہوتا تھا۔
امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے مطابق ابو زبیدہ پہلے قیدی تھے جن پر ’’توسیع شدہ تفتیشی طریقے‘‘ آزمائے گئے، جنہیں بعد میں دنیا نے تشدد کے طور پر تسلیم کیا۔
تشدد کی ہولناک تفصیلات: 83 بار واٹر بورڈنگ
برطانوی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ابو زبیدہ کو دورانِ حراست 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، شدید مار پیٹ کی گئی، اور 11 دن تک تابوت نما تنگ ڈبے میں بند رکھا گیا۔ سی آئی اے کی حراست کے دوران ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو گئی۔
ایم آئی سکس کے اندرونی پیغامات میں انکشاف ہوا کہ اگر ایسا تشدد انتہائی سخت جان امریکی کمانڈوز پر کیا جاتا تو ان میں سے 98 فیصد اسے برداشت نہ کر پاتے۔
مخبری، لشکرِ طیبہ اور اندرونی ڈیلز کے سوالات
معتبر عالمی اداروں کے مطابق جن افراد نے اس خبر کی تصدیق کی، ان کے گھروں میں کچھ عرصہ ابو زبیدہ نے پناہ بھی لی تھی۔ وہ لشکرِ طیبہ کے ’’خاص الخاص‘‘ افراد میں شمار ہوتے تھے۔ انہی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ لشکر کے بعض مرکزی رہنماؤں نے باقاعدہ ڈیلز کیں، جن کے نتیجے میں ابو زبیدہ تک رسائی ممکن ہوئی۔
امریکی صحافی جین مئیر نے اپنی رپورٹ میں ایک سی آئی اے اہلکار کے حوالے سے لکھا کہ آئی ایس آئی نے ایک مخبر کو پیسے دکھا کر ابو زبیدہ کا پتا لگوایا۔
ابو جبران: باڈی گارڈ یا مخبر؟
مرحوم صحافی سلیم شہزاد نے ایک اور اہم انکشاف کیا تھا کہ ابو زبیدہ کا باڈی گارڈ ابو جبران تھا، جسے ابو زبیدہ کے ساتھ ہی گرفتار کیا گیا۔ تاہم حیران کن طور پر صرف آٹھ دن بعد ایف بی آئی نے ابو جبران کو رہا کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ لشکرِ طیبہ کے سرکردہ رہنما ذکی الرحمان لکھوی کا مشیر خاص بن گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہ ہو سکی۔
لشکر طیبہ کی تردید
ایچ ٹی این نے جب لشکر طیبہ کے ایک سابق ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی سے قبل بھی کبھی ابوزبیدہ کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی تنظیم کی اجازت سے کسی فرد سے ان سے کوئی رابطہ رکھا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ابو جبران نامی کوئی شخص لشکر طیبہ سے منسلک نہیں رہا اور اس سارے معاملے میں کبھی بھی لشکر طیبہ کا کوئی بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق نہیں رہا۔
برطانیہ کا غیر معمولی اعتراف: بھاری زرِ تلافی
جنوری 2026 میں برطانوی حکومت نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ابو زبیدہ کو زرِ تلافی کے طور پر ’’بھاری رقم‘‘ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ فیصلہ اس مقدمے کے نتیجے میں آیا جو ابو زبیدہ نے اپنی وکیل پروفیسر ہیلین ڈفی کے ذریعے برطانوی حکومت کے خلاف دائر کیا تھا۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس جانتے تھے کہ ابو زبیدہ پر بدترین تشدد ہو رہا ہے، اس کے باوجود انہوں نے سی آئی اے کو تفتیشی سوالات بھیج کر اس عمل میں بالواسطہ تعاون کیا۔
’یہ معاوضہ اہم ہے مگر ناکافی‘
ابو زبیدہ کی وکیل پروفیسر ہیلین ڈفی نے کہا کہ یہ معاوضہ غیر معمولی اور اہم ہے، لیکن ناکافی ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ اور دیگر حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف تشدد کی ذمہ داری قبول کریں بلکہ ابو زبیدہ کی رہائی کے لیے بھی عملی اقدامات کریں۔
برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین ڈومینک گریو نے بھی کہا کہ زرِ تلافی ملنا غیر معمولی ضرور ہے، مگر جو کچھ ابو زبیدہ کے ساتھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ انتہائی غلط ہے۔
ایک انتہائی سینیئر صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایچ ٹی این اردو کو بتایا کہ امریکہ اس وقت ابو زبیدہ کی رہائی پر آمادہ ہے اور برطانیہ سے آنے والا یہ فیصلہ ان کی رہائی کیلئے راستہ بنانے کے مترادف ہے۔ آئندہ چند عرصے میں ابو زبیدہ کو امریکہ کی جانب سے ریا کیا جا سکتا ہے اور پہلے ہی ان کی سختیوں میں کمی کر دی گئی ہے۔
’فوریور پرزنر‘: گوانتانامو کی علامت
ابو زبیدہ کو گوانتانامو بے کا ’’فوریور پرزنر‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ ان 15 قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں عدالتی فیصلوں اور حکومتی رپورٹس کے باوجود کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا۔ امریکی حکومت اگرچہ القاعدہ کے سینئر رہنما ہونے کا الزام واپس لے چکی ہے، مگر اس کے باوجود ان کی رہائی پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ابو زبیدہ کا مقدمہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور ریاستی طاقت کے بے لگام استعمال پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ کیس یاد دلاتا ہے کہ جب ریاستیں خوف کے زیرِ اثر قانون سے بالاتر ہو جائیں، تو انصاف صرف کاغذوں میں رہ جاتا ہے۔
آج بھی سوال وہی ہے کہ اگر الزامات غلط تھے، تشدد ثابت ہو چکا ہے، اور ذمہ داریاں تسلیم کی جا رہی ہیں، تو ابو زبیدہ اب تک قید کیوں ہیں؟
دیکھیں: ستم کا آشنا تھا وہ۔۔۔