"> اڈانی گروپ کے خلاف تحریروں پر بھارتی صحافی کو قانونی کاروائی کا سامنا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اڈانی گروپ کے خلاف تحریروں پر بھارتی صحافی کو قانونی کاروائی کا سامنا

بھارتی صحافی کی بڑے صنعتی گروپ اڈانی کے خلاف مبینہ ہتک آمیز مہم نے قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر دوہرے معیار کی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ ایمان مزاری اور نائر کے کیسز پر عوامی ردعمل میں پائے جانے والے تضاد نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں
بھارتی صحافی کی بڑے صنعتی گروپ کے خلاف مبینہ ہتک آمیز مہم نے قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر دوہرے معیار کی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ ایمان مزاری اور نائر کے کیسز پر عوامی ردعمل میں پائے جانے والے تضاد نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں

اڈانی گروپ کے خلاف مبینہ ہتک آمیز تحریروں پر قانونی کاروائی۔ اس معاملے نے ایمان مزاری اور نائر کی گرفتاریوں پر سوشل میڈیا کے دوہرے معیار کو واضح کر دیا ہے

February 11, 2026

اڈانی گروپ اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز مہم چلانے کے الزام میں قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صحافی پر الزام ہے کہ انہوں نے ‘ایکس’ اور مختلف آن لائن ویب سائٹس پر ایسے مضامین اور ٹویٹس شائع کیے جن کا مقصد دانستہ طور پر کارپوریٹ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔

ادارے کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ تحریریں حقائق کے برعکس اور ادارے کے تجارتی مفادات پر ضرب لگانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ اس معاملے نے بھارت میں اظہارِ رائے کی آزادی اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے قانونی طاقت کے استعمال کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

اس پورے معاملے کا ایک اور اہم پہلو بھارتی سوشل میڈیا صارفین کا تضاد ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی حلقے جو ماضی میں ایمان مزاری کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا مچا رہے تھے، وہ اب بھارتی صحافی ‘نائر’ کی اسی نوعیت کے الزامات پر گرفتاری پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ناقدین اس رویے کو دوہرے معیار کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب مفادات اپنے ملک یا پسندیدہ بیانیے سے وابستہ ہوں تو آزادیِ اظہار کے اصول بدل دیے جاتے ہیں۔ یہ کیس نہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کی قانونی جنگ کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ڈیجیٹل دور میں بیانیے کی تشکیل میں پائے جانے والے تضادات کو بھی صریح انداز میں واضح کرتا ہے۔

دیکھیے: سندھ طاس معاہدہ؛ عالمی عدالت کی ڈیڈ لائن ختم، بھارت ہائیڈرو پاور فراہم کرنے میں ناکام

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *