اس نئی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک میں مہارتیں اور معیار کے مطابق ملازمتیں پیدا ہوں گی، بلکہ مقامی پیداوار کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ عالمی کمپنیاں پاکستان کو صرف مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد پیداواری مرکز کے طور پر چن رہی ہیں۔

January 27, 2026

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔

January 27, 2026

ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔

January 27, 2026

زلمے خلیل زاد کے مطابق علاقائی اور عالمی سطح پر یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کو تنہائی میں رکھنے کے بجائے عملی سفارتی روابط قائم کرنا ضروری ہے۔

January 27, 2026

پہلی کارروائی 17 جنوری کو رات 8 بج کر 30 منٹ پر ضلع شندند میں کی گئی، جہاں گشت پر مامور طالبان کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں طالبان کے دو اہلکار رسول شاہ بلخی اور حمیداللہ ہلاک ہو گئے، جبکہ گاڑی میں موجود دیگر دو اہلکار موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

January 27, 2026

تیرہ کے لوگ سردیوں میں روایتی طور پر نیچے آتے ہیں، لیکن شہری انتظامیہ کی ناکام منصوبہ بندی اور غلط بیانی نے اسے بحران کے طور پر پیش کیا

January 27, 2026

جنوبی ایشیا میں امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں؛ ترک صدر اردوان

انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطہ مسلسل کشیدگی اور خطرات کی زد میں رہے گا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ گزشتہ 23 ماہ سے ہر گھنٹے کے بعد ایک فلسطینی بچہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن کر زندگی سے محروم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر بچہ ایک کہانی اور ایک کائنات ہے جو مسمار کر دی گئی۔

September 24, 2025

اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ترک صدر اردوان نے ایک ولولہ انگیز اور بامعنی خطاب کیا، جس نے عالمی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ان کی تقریر کا سب سے مؤثر لمحہ وہ تھا جب انہوں نے غزہ کے معصوم بچوں کی خون آلود اور جسمانی اعضا سے محروم تصاویر دکھا کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ تاہم ان کا خطاب صرف فلسطین تک محدود نہ رہا، بلکہ انہوں نے بھارت کے زیرِ تسلط کشمیری عوام کی جدوجہد اور مظلومیت کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور واضح کیا کہ اس مسئلے کا منصفانہ حل نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔


ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ گزشتہ 23 ماہ سے ہر گھنٹے کے بعد ایک فلسطینی بچہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن کر زندگی سے محروم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر بچہ ایک کہانی اور ایک کائنات ہے جو مسمار کر دی گئی۔

ایوان سے خطاب کے دوران صدر اردوان نے تین تصاویر دکھائیں جن میں زخمی اور معذور بچے، کھنڈر میں تبدیل محلے اور دربدر فلسطینی خاندان نمایاں تھے۔ ان مناظر نے ایوان کو لمحوں کے لیے ساکت کر دیا۔ اردوان نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ درختوں، جانوروں اور زمین کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، صدیوں پرانے زیتون کے باغ اجاڑ دیے گئے ہیں، پانی کو زہر آلود کر دیا گیا ہے اور زمین کو بنجر بنا دیا گیا ہے۔


اپنے خطاب میں ترک صدر نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ کیا گیا تو خطہ مسلسل کشیدگی اور خطرات کی زد میں رہے گا۔

صدر اردوان نے کہا کہ کشمیر محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہے۔ ان کے مطابق جب تک کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت نہیں ملتا، خطے میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اپنی تقریر میں صدر اردوان نے کشمیر کا ذکر نہیں کیا تھا، تاہم اس مرتبہ انہوں نے اسے اپنی تقریر کا مرکزی نکتہ بنایا اور عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ وہ مزید خاموش تماشائی نہ بنی رہے۔

دیکھیں: کینیڈا اور برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا

متعلقہ مضامین

اس نئی سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک میں مہارتیں اور معیار کے مطابق ملازمتیں پیدا ہوں گی، بلکہ مقامی پیداوار کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی۔ عالمی کمپنیاں پاکستان کو صرف مارکیٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابل اعتماد پیداواری مرکز کے طور پر چن رہی ہیں۔

January 27, 2026

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔

January 27, 2026

ملیحہ لودھی کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو علامتی قرار دینے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شمولیت ایک تاریخی اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ عدم شمولیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ، عالمی رابطہ کاری میں کمزوری اور پائیدار حل کے مواقع ضائع ہو سکتے تھے۔

January 27, 2026

زلمے خلیل زاد کے مطابق علاقائی اور عالمی سطح پر یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ افغانستان کو تنہائی میں رکھنے کے بجائے عملی سفارتی روابط قائم کرنا ضروری ہے۔

January 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *