افغانستان کے صوبہ تخار کے دارالحکومت تالقان میں بدھ کی شام طالبان فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے دستی بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ کیمپ کمانڈر سمیت دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے یونیورسٹی روڈ پر قائم طالبان سکیورٹی کیمپ کے باہر کیمپ کمانڈر کی گاڑی پر دستی بم پھینکا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ حملے کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
فائرنگ کے دوران کیمپ کمانڈر ملا وحید فرمان سمیت تین اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں زخمی کمانڈر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہوگئی۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت شمس اللہ (ساکن ہلمند) اور عزیز پہلوان (ساکن گردیز) کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں طالبان مخالف مسلح تنظیم “اے ایف ایف” نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
حملے کے فوراً بعد طالبان فورسز کی جانب سے کیمپ سے نکل کر شدید فائرنگ کی گئی، جس سے یونیورسٹی روڈ اور اطراف میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعد ازاں علاقے کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا گیا، جو رات گئے تک جاری رہا۔
تاحال طالبان حکام کی جانب سے واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔