پاکستان کے خلاف افغانستان اور بھارت کی جانب سے کھلی سازشوں اور پراکسی وار کے ذریعے بدامنی پھیلانے کے منظم منصوبے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ سفارتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان سرزمین کو ایک بار پھر پاکستان مخالف دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت ان گروہوں کو سیاسی، مالی اور سفارتی سرپرستی فراہم کر کے سرحد پار دہشت گردی کی کھلی حمایت کر رہا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان اور چینی مفادات پر حملے
اس منظم سازش کا تازہ ترین اور اہم ترین ہدف پاکستان میں مقیم چینی شہری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبوں اور اقتصادی رابطوں پر دہشت گردانہ حملے محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں، تاکہ خطے میں معاشی ترقی اور استحکام کے عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ ان حملوں کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ خطہ محفوظ نہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
علاقائی استحکام اور وسطی ایشیا پر اثرات
افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا غیر محفوظ ماحول اب وسطی ایشیا کی سرحدی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس بدامنی کی وجہ سے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اقتصادی اور سیکیورٹی کے مواقع محدود ہو رہے ہیں اور تجارتی شاہراہوں کی حفاظت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، بھارت اور افغانستان کا یہ گٹھ جوڑ پورے خطے کو ایک ایسی آگ میں دھکیل رہا ہے جس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بین العلاقائی تجارت کا خواب بھی چکنا چور ہو سکتا ہے۔
اطلاعاتی جنگ اور عالمی فورمز کا استعمال
پاکستان کے خلاف یہ دشمنی صرف زمینی کارروائیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اطلاعاتی جنگ، میڈیا اور سفارت کاری کے ذریعے بھی پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ بھارت عالمی فورمز پر جھوٹا بیانیہ تشکیل دے کر پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ ماہرینِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پائیدار امن اور ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاستیں پراکسیز اور دہشت گردی کی سیاست ترک کر کے ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ محاذ آرائی کے بجائے حقیقی تعاون کو ترجیح دی ہے، لیکن دشمنوں کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اب عالمی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
دیکھیے: افغانستان: عالمی دہشت گردی کا مرکز اور بین الاقوامی اداروں کی تشویشناک رپورٹس