پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان اور بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس افواہ کی سختی سے تردید کی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں ہلاک کر دیا گیا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق مذکورہ خبر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) November 26, 2025
Title: False claims on Afghan & Indian social media alleging that Imran Khan has been “killed in jail by ISI”
🟠 Claim:
Anonymous Afghan accounts circulated an unverified rumour that Imran Khan was killed in custody and his… pic.twitter.com/Tn5zMmOyRS
اطلاعات کے مطابق یہ جعلی خبر دو افغان اکاؤنٹس سے شروع کی گئی جو جھوٹی و منگھڑت اطلاعات پھیلانے کے لیے بدنام ہیں۔ دونوں کی پوسٹیں محض 46 منٹ کے وقفے سے سامنے آئی جس سے اس پروپیگنڈے کی منظم نوعیت سامنے آتی ہے۔ خیال رہے کہ دونوں اکاؤنٹس نے پاکستانی ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کی ہلاکت کی خبر پھیلائی لیکن کوئی سرکاری دستاویز یا تصدیق چوبت پیش نہ کر سکے۔
ذرائع کے مطابق اس پروپیگنڈا میں استعمال ہونے والی تصاویر بھی پرانی اور غیر متعلقہ ہیں۔ پہلی تصویر آج سے 15سال قبل 2013 کی ہے جب سابق ویرِ اعظم و بانیٔ تحریکِ انصاف عمران خان انتخابی جلسے کے دوران فورک لفٹ سے گرے تھے، جبکہ دوسری تصویر نومبر 2022 کی ہے جو وزیرآباد حملے کے موقع پر لی گئی تھی۔ دونں تصاویر کا جیل یا حراست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بھارتی میڈیا کا روزِ اول سے یہ روش چلی آرہی ہے کہ بے بنیاد خبروں و حقائق سے منافی سائع کرنا اس مرتبہ بھی اہنی روش کو برقرار رکھتے ہوئے بے بنیاد خبر نشر کی ہے ریپبلک ٹی وی سمیت کئی بھارتی ذرائع نے محض افغان اکاؤنٹس پر انحصار کرتے ہوئے اسے خبر بنا ڈالی۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق اس افواہ کا مقصد پاکستان میں جلاؤ، گھیراؤ اور انتشار پھیلانا تھا۔ اس طرح کے بیانیے کو تقویت دینا دراصل ریاستی پالیسی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔