"> افغان تجزیہ کار کی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت پر اکساوے کی کوشش
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بلوچستان اور سندھ میں علیحدگی پسندی کی حمایت، افغان صحافی کا پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا

افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے ‘ٹولو نیوز’ پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی کھلی حمایت کر دی ہے
افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے 'ٹولو نیوز' پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی کھلی حمایت کر دی ہے

ٹولو نیوز پر افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل کا پاکستان مخالف بیان۔ مسلح بغاوت، ملک کی تقسیم اور علیحدگی پسندوں کے لیے غیر ملکی حمایت کا مطالبہ

February 13, 2026

افغانستان کے معروف میڈیا ادارے ‘ٹولو نیوز’ پر ایک پروگرام کے دوران افغان صحافی فضل الرحمن اوریاخیل نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف شدید اشتعال انگیز بیانیے کا پرچار کرتے ہوئے مسلح جدوجہد کی اپیل کر دی ہے۔ انہوں نے ریاستِ پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار عناصر کے لیے غیر ملکی عسکری اور سفارتی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک میں انتشار پھیلانے کی دانستہ کوشش کی ہے۔

دورانِ گفتگو فضل الرحمن اوریاخیل نے پاکستان کی تقسیم کا نقشہ پیش کرتے ہوئے بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں جاری علیحدگی پسند سرگرمیوں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ انہیں جائز قرار دیا۔ ان کا یہ بیان کھلے عام تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے، جسے دفاعی ماہرین افغانستان سے انتہا پسندانہ ایجنڈے کو باہر منتقل کرنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا پر اس نوعیت کی زہریلی گفتگو کا بلا روک ٹوک نشر ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ کابل میں موجود پلیٹ فارمز کو پاکستان دشمنی کے لیے استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ فضل الرحمن اوریاخیل کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور غیر ملکی قوتوں کو مداخلت کی دعوت دینا بین الاقوامی قوانین اور صحافتی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس اشتعال انگیز بیان کے بعد یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا افغان طالبان کی انتظامیہ اپنے اس وعدے پر قائم ہے کہ وہ افغان سرزمین اور وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے؟ ماہرین کے مطابق ‘ٹولو نیوز’ پر اس طرح کے بیانات اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو حاصل مبینہ آزادی، افغان طالبان کے سرکاری دعوؤں کی کھلی نفی ہے اور ان کے قول و فعل میں موجود تضاد کو واضح کرتی ہے

دیکھیے: افغانستان: طالبان کمانڈر کا اسماعیلی شہری پر تشدد اور انسانی حقوق

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *