"> افغانستان: 58 بچوں کے والد بنیادی سہولیات سے محروم

افغانستان: 58 بچوں کے والد بنیادی سہولیات سے محروم

افغانستان کے 57 سالہ محمد صادق 4 بیویوں اور 58 بچوں کے ساتھ شدید غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی سہولیات نہ ہونے سے خاندان مشکلات کا شکار ہے۔
افغانستان: 58 بچوں کے والد بنیادی سہولیات سے محروم

صوبہ ارزگان کے 57 سالہ محمد صادق کے 58 بچے اور 4 بیویاں ہیں۔ شدید غربت، خوراک اور چھت کی کمی کے باعث یہ خاندان کس حال میں جی رہا ہے؟ تفصیلات پڑھیں۔

October 23, 2026

افغانستان کے دور افتادہ صوبے ارزگان کے 57 سالہ رہائشی محمد صادق ایک ہی چھت تلے دنیا کی چند بڑی ترین فیملیز میں سے ایک کی کفالت کر رہے ہیں۔ چار بیویوں اور 58 بچوں پر مشتمل اس بڑے خاندان کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک کٹھن چیلنج بن چکا ہے۔

محمد صادق کا کہنا ہے کہ انہوں نے دینی جذبے کے تحت بڑا خاندان تشکیل دیا۔ تاہم، اب بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ ان کے لیے سب کے نام یاد رکھنا بھی مشکل ہے اور وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنے بچوں کو گنتے ہیں۔

غربت اور بنیادی سہولیات

اس خاندان کو شدید غربت کا سامنا ہے۔ گھر کے کمروں میں کھڑکیاں اور دروازے تک موجود نہیں اور پردوں سے کام چلایا جاتا ہے۔ سردیوں میں تمام اہل خانہ کمروں کے اندر اور گرمیوں میں صحن میں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ سونے کے لیے جگہ اور بستروں کی شدید کمی ہے، جہاں اکثر اوقات چھ سے سات بچے ایک ہی پتلا کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔

محمد صادق نے بتایا کہ ان کی چاروں بیویوں کی شادی انتہائی کم عمری (13 سے 16 سال کے درمیان) میں ہوئی تھی۔ مسلسل حمل، مناسب غذائیت کی کمی اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث اس خاندان کے 14 بچے بچپن ہی میں انتقال کر چکے ہیں، جو افغانستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین کی صحت کے سنگین مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔

کباڑ چن کر پیٹ پالنا

محمد صادق خود ناخواندہ ہیں اور ایک مقامی موٹر شو روم میں کام کرتے ہیں، جہاں انہیں ایک گاڑی کی فروخت پر محض 1,000 افغانی (افغانی کرنسی) ملتے ہیں۔ والد کی محدود آمدنی کے باعث بچے بھی کچرے سے کاغذ اور پلاسٹک جمع کرنے پر مجبور ہیں، تاکہ اسے ایندھن اور دیگر اخراجات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

صادق کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن تعلیمی اخراجات اٹھانا ان کے بس سے باہر ہے۔ انہوں نے حکومت، تاجروں اور فلاحی تنظیموں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بس دو ہی خواہشات ہیں: ایک یہ کہ ان کے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم حاصل کر کے دینی عالم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر سکیورٹی فورسز کا ساتھ نہ دینے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔

October 23, 2026

دلیل اور تدبر سے جذباتی نعرے بازی تک۔۔۔۔ ناپختہ مشیروں کے گھیراؤ نے مولانا فضل الرحمٰن کا دہائیوں پر محیط سیاسی وقار اور وراثت داؤ پر لگا دی ہے۔

October 23, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ کے منشور، تیسویں شمارے، اور ماضی کے آئین کی غلطیوں کا جائزہ۔ ایک شفاف، شہری اور جمہوری انتقالِ اقتدار کا کامل روڈ میپ۔

October 23, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کے دورے کے دوران خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورت حال اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر بریفنگ لی۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *