افغانستان کے دور افتادہ صوبے ارزگان کے 57 سالہ رہائشی محمد صادق ایک ہی چھت تلے دنیا کی چند بڑی ترین فیملیز میں سے ایک کی کفالت کر رہے ہیں۔ چار بیویوں اور 58 بچوں پر مشتمل اس بڑے خاندان کے لیے روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک کٹھن چیلنج بن چکا ہے۔
محمد صادق کا کہنا ہے کہ انہوں نے دینی جذبے کے تحت بڑا خاندان تشکیل دیا۔ تاہم، اب بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ ان کے لیے سب کے نام یاد رکھنا بھی مشکل ہے اور وہ ہر رات سونے سے پہلے اپنے بچوں کو گنتے ہیں۔
غربت اور بنیادی سہولیات
اس خاندان کو شدید غربت کا سامنا ہے۔ گھر کے کمروں میں کھڑکیاں اور دروازے تک موجود نہیں اور پردوں سے کام چلایا جاتا ہے۔ سردیوں میں تمام اہل خانہ کمروں کے اندر اور گرمیوں میں صحن میں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ سونے کے لیے جگہ اور بستروں کی شدید کمی ہے، جہاں اکثر اوقات چھ سے سات بچے ایک ہی پتلا کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں۔
محمد صادق نے بتایا کہ ان کی چاروں بیویوں کی شادی انتہائی کم عمری (13 سے 16 سال کے درمیان) میں ہوئی تھی۔ مسلسل حمل، مناسب غذائیت کی کمی اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث اس خاندان کے 14 بچے بچپن ہی میں انتقال کر چکے ہیں، جو افغانستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین کی صحت کے سنگین مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔
کباڑ چن کر پیٹ پالنا
محمد صادق خود ناخواندہ ہیں اور ایک مقامی موٹر شو روم میں کام کرتے ہیں، جہاں انہیں ایک گاڑی کی فروخت پر محض 1,000 افغانی (افغانی کرنسی) ملتے ہیں۔ والد کی محدود آمدنی کے باعث بچے بھی کچرے سے کاغذ اور پلاسٹک جمع کرنے پر مجبور ہیں، تاکہ اسے ایندھن اور دیگر اخراجات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
صادق کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے تھے لیکن تعلیمی اخراجات اٹھانا ان کے بس سے باہر ہے۔ انہوں نے حکومت، تاجروں اور فلاحی تنظیموں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بس دو ہی خواہشات ہیں: ایک یہ کہ ان کے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا مل سکے اور دوسری یہ کہ وہ تعلیم حاصل کر کے دینی عالم بن سکیں۔





