"> کابل یونیورسٹی: افغان وزیرِ تعلیم کا طالب علم پر تشدد، ازبک ٹوپی پہننا جرم بن گیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل یونیورسٹی: افغان وزیرِ تعلیم کا طالب علم پر تشدد، ازبک ٹوپی پہننا جرم بن گیا

افغان وزیرِ ہائر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم نے کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران ادب کے ایک طالب علم کو ازبک ٹوپی پہننے پر سرِعام تھپڑ مار دیا۔ عینی شاہدین نے واقعے کو نسلی تذلیل اور ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے
افغان وزیرِ ہائر ایجوکیشن شیخ ندا محمد ندیم نے کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران ادب کے ایک طالب علم کو ازبک ٹوپی پہننے پر سرِعام تھپڑ مار دیا۔ عینی شاہدین نے واقعے کو نسلی تذلیل اور ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا ہے

افغانستان میں وزیرِ ہائر ایجوکیشن کا طالب علم پر تشدد۔ ازبک ٹوپی پہننے پر تکرار اور سرِعام تھپڑ مارنے کے واقعے نے کابل یونیورسٹی میں سنسنی پھیلا دی۔ افغان عوام کا نسلی امتیاز پر شدید احتجاج

April 10, 2026

افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم شیخ ندا محمد ندیم کی جانب سے یونیورسٹی کے ایک طالب علم پر تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق وزیرِ موصوف نے ایک طالب علم کو محض اس لیے سرِعام تھپڑ رسید کر دیا کہ اس نے یونیورسٹی کی حدود میں اپنی روایتی “ازبک ٹوپی” پہن رکھی تھی۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران پیش آیا جہاں ادب کے ایک طالب علم اور وزیرِ ہائر ایجوکیشن کے درمیان تکرار ہوئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شیخ ندا نے طالب علم کی جانب سے پہنی گئی ازبک ٹوپی پر اعتراض کیا، جس کے بعد ہونے والی تلخ کلامی پر وزیر نے آپے سے باہر ہو کر طالب علم کے چہرے پر تھپڑ دے مارا اور اسے سخت تذلیل کا نشانہ بنایا۔

ثقافتی اور روایتی شناخت

واضح رہے کہ ازبک ٹوپی افغانستان میں آباد ازبک نژاد شہریوں کی قدیم جڑوں اور ان کی مخصوص روایتی ثقافت کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ افغانستان کے کثیر القومی معاشرے میں مختلف لسانی اور نسلی گروہ اپنی روایات کے مطابق لباس اور ٹوپیاں پہنتے ہیں، تاہم وزیر کے اس جارحانہ اقدام کو نسلی امتیاز اور ثقافتی جبر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

عوامی و سماجی ردِعمل

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی خبر وائرل ہونے کے بعد افغان عوام اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے طلبہ کے ساتھ ایسا تضحیک آمیز سلوک تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول پیدا کر سکتا ہے اور یہ عدم برداشت کی انتہا ہے۔ اب تک افغان وزارتِ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا معذرت سامنے نہیں آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *