"> افغان انٹیلیجنس کا پراپیگنڈا: کراچی کے معروف کاروباری شخص کو داعش کمانڈر قرار دینے کی سازش بے نقاب - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان انٹیلیجنس کا پراپیگنڈا: کراچی کے معروف کاروباری شخص کو داعش کمانڈر قرار دینے کی سازش بے نقاب

طالبان انٹیلی جنس سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے کراچی کے تاجر کو داعش خراسان کمانڈر قرار دینے کا دعویٰ تحقیقات میں غلط ثابت، مبینہ پروپیگنڈا سامنے آگیا
طالبان انٹیلی جنس سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے کراچی کے تاجر کو داعش خراسان کمانڈر قرار دینے کا دعویٰ تحقیقات میں غلط ثابت، مبینہ پروپیگنڈا سامنے آگیا

افغان انٹیلی جنس سے منسلک مبینہ اکاؤنٹس نے کراچی کے تاجر کو داعش خراسان کا کمانڈر بتا کر پراپیگنڈا پھیلایا، جو تحقیق میں جھوٹ ثابت ہوا

February 9, 2026

افغانستان میں طالبان انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) سے وابستہ مبینہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک جعلی پراپیگنڈا مہم کا انکشاف ہوا ہے، جس میں کراچی کے ایک معروف تاجر کو داعش خراسان کا کمانڈر قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم مبصرین کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ اکاؤنٹس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں واقع علاقے تیراہ میں داعش خراسان کی موجودگی کے جھوٹے دعوے کرتے رہے۔

ان اکاؤنٹس نے “حافظ زبیر موحد” کے نام سے ایک فرضی نام کا دعوی کیا اور اسے تیراہ میں داعش خراسان کا کمانڈر بتایا۔ انہوں نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ شخص اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے کے وقت وفاقی دارالحکومت میں موجود تھا۔

تاہم تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ان اکاؤنٹس کی پھیلائی گئی تصویر دراصل کراچی کے ایک معروف تاجر اور پراپرٹی ڈیلر حافظ محمد کی تھی، جو سوشل میڈیا پر فعال ہیں اور جن کا نہ تو داعش سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ کبھی تیراہ کے علاقے میں گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک منظم پراپیگنڈا تھا جس میں ایک عام شہری کی شناخت کو مسخ کر کے اسے دہشتگرد قرار دیا گیا۔

اس انکشاف کے بعد سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا طالبان حکومت سے منسلک حلقے مقبوضہ علاقوں میں داعش کی موجودگی کے دعوؤں کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے جعلی بیانیے تشکیل دے رہے ہیں۔ کراچی کے تاجر حافظ محمد کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس پر ان کی عام سرگرمیاں اس بات کی واضح تردید کرتی ہیں کہ ان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ہو۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *