افغان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر پر کارروائیوں کے بعد افغان طالبان نے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد اسپتالوں، اسکولوں، مدارس اور دیگر عوامی مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنائے جانے سے بچایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کا اسلحہ اب شہری علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات میں مختلف تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، جن کی باضابطہ تصدیق کسی بین الاقوامی یا غیر جانبدار ذریعے سے نہیں ہوئی۔
دونوں جانب سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا، دونوں ممالک نے عید کے احترام میں کاروائیاں عارضٰ طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ہیں تو اس سے شہریوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور انسانی ڈھال کے استعمال سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
دیکھئیے:عید کے پیش نظر آپریشن ’غضب للحق‘ میں عارضی وقفہ، پاکستان کا اہم اعلان