"> نیویارک ٹائمز کا بیانیہ مسترد

طالبان اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، امریکی میڈیا کا دوہرا معیار بے نقاب

نیویارک ٹائمز کی جانب سے افغان طالبان اور دہشت گردوں کو تحفظ دینے کے عمل کو محض تنازع قرار دینا گمراہ کن ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی پاکستان میں خونریزی پھیلا رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کا بیانیہ مسترد

نیویارک ٹائمز کی پاک-افغان رپورٹنگ پر پاکستان کا سخت ردعمل، افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پناہ گاہیں اور مالی معاونت فراہم کرنے کے ثبوت بے نقاب۔

October 22, 2026

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی پاک افغان تعلقات سے متعلق شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں افغان طالبان کی دہشت گرد پروری اور امریکی میڈیا کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ ردعمل میں نیویارک ٹائمز کی جانب سے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کرنے والے مسلح طالبان کو ‘افغان فوج’ اور ان کے جنگجوؤں کو ‘افغان فوجی’ قرار دینے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے پاکستان میں جاری سرحد پار دہشت گردی کو دو ممالک کے درمیان محض ایک تنازع قرار دینا انتہائی گمراہ کن اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ ردعمل میں نیویارک ٹائمز پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ جب طالبان کی پناہ میں موجود اسامہ بن لادن نے نائن الیون حملہ کر کے 3 ہزار امریکیوں کو قتل کیا تھا، کیا تب بھی امریکی میڈیا نے اسے صرف دو ممالک کا تنازع کہا تھا؟

پاکستانی موقف میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صرف سال 2026 میں اب تک ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں 1,429 پاک وطن کے شہری جاں بحق اور 2,679 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں افغان طالبان کی فراہم کردہ محفوظ پناہ گاہوں سے کی جا رہی ہیں۔ کیا پاکستانیوں کا خون اتنا سستا ہے کہ مغرب اور اس کا میڈیا دہشت گردوں کی سرپرستی کو صرف ایک ‘تنازع’ کا نام دے رہا ہے؟

ردعمل میں سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر دہشت گردی کرتے ہوئے 260 افغان شہری مارے گئے ہیں، جن کی لاشوں کی شناخت افغانستان میں ان کے گھروں کے پتوں سے ہوئی اور ان کی تدفین و جنازوں میں افغان طالبان کے حکام نے باقاعدہ شرکت کی۔ یہاں تک کہ افغان طالبان کے ایک موجودہ نائب گورنر کا بیٹا بھی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوا، جو طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کا نا قابلِ تردید ثبوت ہے۔

بیان میں مغربی ممالک کی منافقت پر پردہ اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں مغرب نے افغان طالبان کو 17.5 ارب ڈالر فراہم کیے، جن میں سے 60 فیصد حصہ تنہا امریکہ کا تھا۔ ایک مسلح گروہ کو دی جانے والی یہ خطیر رقم بلا مقصد نہیں ہے۔

ردعمل میں کہا گیا کہ پاکستان نے سال 2021 سے اب تک درجنوں سفارتی دورے اور مذاکرات کیے تاکہ طالبان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پناہ گاہیں دینے سے روکا جا سکے، لیکن طالبان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ اور چین بھی افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کوئی قابلِ تصدیق ضمانت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹنگ اور افغان طالبان کے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوششیں بین الاقوامی صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف اور کھلی منافقت ہیں۔

متعلقہ مضامین

عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026 میں سرحد پار دہشت گردی کی سنگین صورت حال، پاک افغان بارڈر کے سکیورٹی چیلنجز اور علاقائی معاشی منصوبوں کو لاحق خطرات کا تفصیلی جائزہ۔

October 22, 2026

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، پولیس و سی ٹی ڈی کو جدید آلات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر اتفاق۔

October 22, 2026

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کی سی سی ڈی بہاولپور منتقلی پر افسران کے مؤقف اور قانونی اختیار کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 22, 2026

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

October 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *