افغانستان کے صوبے لوگر سے ایک تشویش ناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک دہشت گرد کو ریموٹ کنٹرول بارودی سرنگ یعنی آئی ای ڈی تیار کرتے دیکھا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران جدید اسلحے اور بارود کے پاس اس کے دو کمسن بچے بھی موجود تھے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ یہ عناصر اپنے ہی بچوں کی سلامتی کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق شدت پسند اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنے ہی خاندانوں کو خطرے میں ڈالنے سے دریغ نہیں کرتے۔ بارود اور دھماکا خیز مواد کے اتنے قریب معصوم بچوں کی موجودگی عسکریت پسندوں کی مجرمانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
مجرمانہ حکمت عملی
دہشت گرد پاکستان میں سرحد پار کارروائیوں کے لیے یہ خطرناک دھماکا خیز مواد تیار کرتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسند دانستہ طور پر اپنے اہلخانہ کے قریب رہ کر ایسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ بچوں کو سامنے لا کر خود کو عام شہری ثابت کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کر سکیں۔
اس طریقہ کار کے ذریعے شدت پسند اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل معصوم جانوں کو براہِ راست جنگی ایندھن بنانے کے مترادف ہے۔
افغان طالبان کی پناہ گاہیں
افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ان محفوظ ٹھکانوں کی بدولت شدت پسند بلا خوف و خطر بارودی مواد تیار کرتے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نے خود مقامی آبادی کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس سازگار ماحول کے باعث نہ صرف خطے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے بلکہ خود افغان شہری اور ان کے بچے بھی شدید خطرات کا شکار ہو رہے ہیں۔