"> افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد موجود، خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار: روس - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں 23 ہزار تک دہشت گرد موجود، خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار: روس

روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔

روس نے افغانستان میں 20 سے زائد گروہوں سے وابستہ ہزاروں دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی ان خدشات کی توثیق کرتی ہیں۔

May 15, 2026

روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 18 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان دہشت گرد موجود ہیں، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

سرگئی شوئیگو نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی تعداد تئیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ جنگجو بیس سے زائد مختلف مسلح گروہوں سے وابستہ ہیں، جو موجودہ حالات میں افغانستان کے مختلف حصوں میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سلامتی کو لاحق خطرات

روسی حکام نے افغانستان سے دہشت گردی کی برآمد اور منشیات کی اسمگلنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سرگئی شوئیگو کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکن ریاستوں کے لیے افغانستان کی صورتحال اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہاں سے دہشت گردی کے اثرات پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹس کی توثیق

روس کا یہ بیان اقوام متحدہ کی ان رپورٹس سے مماثلت رکھتا ہے جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور داعش جیسی تنظیمیں اپنی محفوظ پناہ گاہیں دوبارہ مستحکم کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مانیٹرنگ سیل کے مطابق، ان گروہوں کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے اور وہ سرحد پار کارروائیاں کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کی ایندھن

سرگئی شوئیگو نے منشیات کی اسمگلنگ کو دہشت گردی کی مالی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والا پیسہ براہِ راست دہشت گرد تنظیموں کی عسکری قوت بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جو کہ وسطی ایشیا اور روس کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے۔

کابل انتظامیہ پر دباؤ

عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ روس کا یہ سخت لب و لہجہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے کی طاقتیں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کابل پر دباؤ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ روس نے مطالبہ کیا ہے کہ کابل میں موجود انتظامیہ ان مسلح گروہوں کے خلاف ٹھوس اور نظر آنے والے اقدامات کرے تاکہ عالمی برادری کے خدشات دور ہو سکیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *