"> افغانستان میں علاقائی رابطوں کی نئی پیشرفت، وسطی ایشیا اجلاس جاری، ترکمانستان تاتارستان ٹرانزٹ معاہدہ متوقع - HTN Urdu افغانستان میں علاقائی رابطوں کی نئی پیشرفت، وسطی ایشیا اجلاس جاری، ترکمانستان۔تاتارستان ٹرانزٹ معاہدہ قریب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں علاقائی رابطوں کی نئی پیشرفت، وسطی ایشیا اجلاس جاری، ترکمانستان تاتارستان ٹرانزٹ معاہدہ متوقع

افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔
افغانستان میں علاقائی روابط کی پیشرفت

افغانستان میں روسی تجارتی مرکز کے سربراہ رستم حبیبولین نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ روس اور اسلامی دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

April 5, 2026

کابل/قازان: افغانستان میں علاقائی روابط کے فروغ کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایک جانب کابل میں افغانستان-وسطی ایشیا مشاورتی اجلاس جاری ہے، وہیں افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان نئے ٹرانسپورٹ و ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے کو بھی حتمی شکل دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

کابل میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کی میزبانی میں ہونے والے پہلے مشاورتی اجلاس میں ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کے نمائندے شریک ہیں، جہاں خطے کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق افغانستان، ترکمانستان اور تاتارستان کے درمیان سہ فریقی ٹرانزٹ کوریڈور معاہدے پر آئندہ دو ماہ میں دستخط متوقع ہیں، جسے قازان فورم کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔

روسی میڈیا کے حوالے سے جاری رپورٹس کے مطابق افغانستان میں روسی تجارتی مرکز کے سربراہ رستم حبیبولین نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ روس اور اسلامی دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ کوریڈور کو نارتھ ساؤتھ کوریڈور کے متبادل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیا، روس اور افغانستان کے درمیان تجارت کو تیز، کم لاگت اور مؤثر بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے تجارتی راستے سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور سامان کی ترسیل کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے علاقائی تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کابل میں جاری اجلاس اور مجوزہ کوریڈور دونوں اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں ایک اہم ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ علاقائی استحکام میں بھی بہتری آئے گی۔

دیکھئیے:شریعت کی آڑ میں شخصی آمریت: افغانستان میں اقتدار قندھار کے ’مخصوص ٹولے‘ تک محدود، عالمی جریدے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *