"> افغانستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دعوؤں کے باوجود افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
افغانستان میں 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والی سرحد پار دہشت گردی خطے اور عالمی سیکیورٹی کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔

August 21, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے تمام تر دعوؤں کے باوجود افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت تقریباً 20 دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں۔

کولن اسمتھ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور حمایت کے نتیجے میں پاکستان کے اندر سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تعداد اور ان کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ داعش خراسان اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان مبینہ روابط قائم ہو چکے ہیں، جبکہ القاعدہ کے ساتھ ان کے مشترکہ تربیتی نیٹ ورکس بھی کام کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے ایک مضمون کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں کسی بھی وقت عالمی سطح پر بڑے حملوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

کولن اسمتھ کے مطابق القاعدہ کی بیرون ملک کارروائیوں کی خواہش میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ افغان سرزمین ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

روس اور یورپی ممالک سمیت متعدد عالمی شراکت داروں نے بھی افغانستان سے جنم لینے والے اس سیکیورٹی چیلنج پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ خطرہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کے لیے تشویشناک ہے۔

مجموعی طور پر اقوام متحدہ کے نتائج اور بین الاقوامی تحقیقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین متعدد بین الاقوامی کالعدم تنظیموں کے لیے اب بھی ایک محفوظ آپریشنل ماحول فراہم کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *