اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں انالٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ میں طالبان حکومت کی کارکردگی اور قوانین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت میں بے جا سختیاں، سخت مرکزی اختیار، نظریاتی کنٹرول اور محدود ادارہ جاتی صلاحیت پر مبنی ہے جبکہ داخلی اختلافات طویل مدتی استحکام کے حوالے سے سوالیہ نشان ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کو مطلق اختیارات حاصل ہیں جو بنیادی طور پر مذہبی فرامین کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں۔ ان کا قندھار میں الگ تھلگ رہنا حکومت کا اصل مرکزِ قوت قرار دیا گیا ہے۔
اندرونی تقسیم
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فیصلہ سازی کا عمل انتہائی مرکوز ہے۔ ملا اخوندزادہ اپنے وفادار افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرتے ہیں، جبکہ ہر صوبے میں قائم کردہ علماء کونسلیں براہ راست قندھار کو جوابدہ ہیں۔ یہ کونسلیں نمائندہ اداروں اور عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے نظریاتی نگرانی اور فروغ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں افغانستان کے مخلتف دھڑوں اور برسر اقتدار طالبان کے درمیان کشیدگی کو واضح طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک جانب تو طالبان حکام کی بے جا پابندیاں جبکہ دوسری جانب وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی زیرِ قیادت حقانی نیٹ ورک نے حکومتی ناکامیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح جانشینی منصوبہ بندی کی عدم موجودگی کو قیادتی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
تعلیمی نظام میں نظریاتی تبدیلی
طالبان حکومت نے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر اپنے نظریاتی بیانیے کے مطابق مرتب کیاہے۔ نصاب سے عوامی حقوق، انسانی حقوق، جمہوری اقدار، آئینی قانون اور خواتین کے حقوق سے متعلق مواد حذف کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 تعلیمی شعبے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ 200 سے زائد مضامین کو نظرثانی سے گزارا گیا ہے۔
اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو سب سے زیادہ متنازعہ قدم قرار دیا گیا ہے جس کے طویل معاشی اور سماجی نتائج مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق مذکورہ اقدامات کئی دہائیوں تک علمی و خاندانی نقصان کا باعث بنیں گے۔
معاشی بحران اور انسانی صورت حال
رپورٹ کے مطابق افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ 2025 کے آغاز میں معیشت میں کمی دیکھی گئی، بے روزگاری کی شرح تقریباً 75 فیصد ہے جبکہ 70 فیصد سے زائد آبادی انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔ خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی اور 45 لاکھ افغان شہریوں کی جبری واپسی نے انسانی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
سیکورٹی صورتحال اور دہشت گرد گروہ
طالبان کے زیرِ انتظام سیکورٹی صورتحال پیچیدہ ہے۔ داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں تو جاری ہیں مگر اس گروہ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ افغانستان میں 20 سے زائد مسلح گروہ سرگرم ہیں جو حکومت کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات رکھتے ہیں۔ اسی طرح سابق جنگجوؤں کو سیکورٹی فورسز میں شامل کرنے سے انسانی وسائل میں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے نظریاتی اور خطے پر سیکورٹی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
افغان طالبان حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر کے افغانستان کو دنیا کا واحد ملک بنا دیا ہے جہاں لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے۔ نیز خواتین کے روزگار اور اظہار رائے پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔
ایران اور پاکستان سے جبری واپس بھیجے گئے افغان شہریوں کے ساتھ حکام کے ظالمانہ سلوک، تشدد اور غیر قانونی حراستوں کے واقعات جاری ہیں۔ یہ اقدامات داخلی اختلافات دبانے اور عوام پر کنٹرول قائم رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
خطے پر اثرات
افغان طالبان نے اپنا اقتدار مضبوط تو کیا ہے اور مضبوط نظم بھی قائم کیا ہے مگر یہ استحکام بنیادی طور پر جبر، نظریاتی ہم آہنگی اور دباؤ پر قائم ہیں نہ کہ عوامی مدد یا قبولیت کی بنا پر۔ واضح رہے کہ افغانستان کی داخلی صورتحال پاکستان اور خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے، کیونکہ ملک اندرونی طور پر سخت گیر، بیرونی طور پر غیر مستحکم ہے لہذا افغانستان کے لیے اصلاحات ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔
دیکھیں: داعش خراسان کے معاملے میں طالبان کے دعوؤں اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں تضاد