اعلان کے مطابق امیرِ طالبان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان سے باہر کسی بھی ملک میں حملہ کرنے والا فرد “مجاہد” تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف امیر کے واضح احکامات کی نافرمانی ہوں گی بلکہ ان کا اسلامی جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

January 12, 2026

لکی مروت میں درہ تنگ کے مقام پر پولیس کی گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ایس ایچ او رازق خان سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے

January 12, 2026

پاکستان میں متعین تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محبت، اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر مستحکم قرار دیا اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت دوطرفہ تجارت کو 30 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا

January 12, 2026

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے صومالیہ کے ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں علیحدگی پسند اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے افریقہ میں سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا

January 12, 2026

مشعال ملک نے راولپنڈی میں خطاب کے دوران مودی کو پیغام دیا کہ ‘کشمیر ایک آتش فشاں ہے جو جلد پھٹنے والا ہے’، اور کہا کہ یاسین ملک حق کی جنگ لڑ رہا ہے، زندہ رہا تو غازی اور مار دیا گیا تو شہید کہلائے گا

January 12, 2026

افسانوی راک بینڈ گریٹ فل ڈیڈ کے شریک بانی اور ممتاز ریڈم گٹارسٹ باب وئیر 78 برس کی عمر میں کینسر اور پھیپھڑوں کے مرض کے باعث انتقال کر گئے

January 12, 2026

اقوامِ متحدہ نے اپنی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان حکومت کی طاقت، نظریاتی حکمرانی اور انسانی بحران پر سوالات اٹھا دیے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت مرکزی اختیار، نظریاتی کنٹرول اور محدود ادارہ جاتی صلاحیت پر مبنی ہے۔ سربراہ مولوی حبیب اللہ اخوندزادہ کو مطلق اختیارات حاصل ہیں اور وہ زیادہ تر فیصلے مذہبی فرامین کے ذریعے کرتے ہیں
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت شدید مرکزی اختیار، نظریاتی کنٹرول اور محدود ادارہ جاتی صلاحیت پر مبنی ہے۔ سربراہ مولوی حبیب اللہ اخوندزادہ کو مطلق اختیارات حاصل ہیں اور وہ زیادہ تر فیصلے مذہبی فرامین کے ذریعے کرتے ہیں

رپورٹ کے مطابق طالبان نے نصاب کو نظریاتی بنیادوں مرتب کیا ہے اور 18 شعبے بند ہیں۔ جس کے باعث لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب کرے گی

December 30, 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں انالٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی تازہ رپورٹ میں طالبان حکومت کی کارکردگی اور قوانین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت میں بے جا سختیاں، سخت مرکزی اختیار، نظریاتی کنٹرول اور محدود ادارہ جاتی صلاحیت پر مبنی ہے جبکہ داخلی اختلافات طویل مدتی استحکام کے حوالے سے سوالیہ نشان ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کو مطلق اختیارات حاصل ہیں جو بنیادی طور پر مذہبی فرامین کے ذریعے فیصلے کرتے ہیں۔ ان کا قندھار میں الگ تھلگ رہنا حکومت کا اصل مرکزِ قوت قرار دیا گیا ہے۔

اندرونی تقسیم

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فیصلہ سازی کا عمل انتہائی مرکوز ہے۔ ملا اخوندزادہ اپنے وفادار افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرتے ہیں، جبکہ ہر صوبے میں قائم کردہ علماء کونسلیں براہ راست قندھار کو جوابدہ ہیں۔ یہ کونسلیں نمائندہ اداروں اور عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے نظریاتی نگرانی اور فروغ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں افغانستان کے مخلتف دھڑوں اور برسر اقتدار طالبان کے درمیان کشیدگی کو واضح طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک جانب تو طالبان حکام کی بے جا پابندیاں جبکہ دوسری جانب وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی زیرِ قیادت حقانی نیٹ ورک نے حکومتی ناکامیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح جانشینی منصوبہ بندی کی عدم موجودگی کو قیادتی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

تعلیمی نظام میں نظریاتی تبدیلی

طالبان حکومت نے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر اپنے نظریاتی بیانیے کے مطابق مرتب کیاہے۔ نصاب سے عوامی حقوق، انسانی حقوق، جمہوری اقدار، آئینی قانون اور خواتین کے حقوق سے متعلق مواد حذف کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم 18 تعلیمی شعبے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ 200 سے زائد مضامین کو نظرثانی سے گزارا گیا ہے۔

اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو سب سے زیادہ متنازعہ قدم قرار دیا گیا ہے جس کے طویل معاشی اور سماجی نتائج مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق مذکورہ اقدامات کئی دہائیوں تک علمی و خاندانی نقصان کا باعث بنیں گے۔

معاشی بحران اور انسانی صورت حال

رپورٹ کے مطابق افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ 2025 کے آغاز میں معیشت میں کمی دیکھی گئی، بے روزگاری کی شرح تقریباً 75 فیصد ہے جبکہ 70 فیصد سے زائد آبادی انسانی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔ خواتین امدادی کارکنوں پر پابندی اور 45 لاکھ افغان شہریوں کی جبری واپسی نے انسانی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

سیکورٹی صورتحال اور دہشت گرد گروہ

طالبان کے زیرِ انتظام سیکورٹی صورتحال پیچیدہ ہے۔ داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں تو جاری ہیں مگر اس گروہ کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ افغانستان میں 20 سے زائد مسلح گروہ سرگرم ہیں جو حکومت کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات رکھتے ہیں۔ اسی طرح سابق جنگجوؤں کو سیکورٹی فورسز میں شامل کرنے سے انسانی وسائل میں اضافہ ہوا ہے مگر اس کے نظریاتی اور خطے پر سیکورٹی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

افغان طالبان حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر کے افغانستان کو دنیا کا واحد ملک بنا دیا ہے جہاں لڑکیوں کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے۔ نیز خواتین کے روزگار اور اظہار رائے پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔

ایران اور پاکستان سے جبری واپس بھیجے گئے افغان شہریوں کے ساتھ حکام کے ظالمانہ سلوک، تشدد اور غیر قانونی حراستوں کے واقعات جاری ہیں۔ یہ اقدامات داخلی اختلافات دبانے اور عوام پر کنٹرول قائم رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

خطے پر اثرات

افغان طالبان نے اپنا اقتدار مضبوط تو کیا ہے اور مضبوط نظم بھی قائم کیا ہے مگر یہ استحکام بنیادی طور پر جبر، نظریاتی ہم آہنگی اور دباؤ پر قائم ہیں نہ کہ عوامی مدد یا قبولیت کی بنا پر۔ واضح رہے کہ افغانستان کی داخلی صورتحال پاکستان اور خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے، کیونکہ ملک اندرونی طور پر سخت گیر، بیرونی طور پر غیر مستحکم ہے لہذا افغانستان کے لیے اصلاحات ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔

دیکھیں: داعش خراسان کے معاملے میں طالبان کے دعوؤں اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں تضاد

متعلقہ مضامین

اعلان کے مطابق امیرِ طالبان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان سے باہر کسی بھی ملک میں حملہ کرنے والا فرد “مجاہد” تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف امیر کے واضح احکامات کی نافرمانی ہوں گی بلکہ ان کا اسلامی جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

January 12, 2026

لکی مروت میں درہ تنگ کے مقام پر پولیس کی گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ایس ایچ او رازق خان سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے

January 12, 2026

پاکستان میں متعین تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محبت، اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر مستحکم قرار دیا اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت دوطرفہ تجارت کو 30 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا

January 12, 2026

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے صومالیہ کے ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں علیحدگی پسند اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے افریقہ میں سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا

January 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *