افغانستان ایک کثیر النسلی معاشرہ ہے جہاں پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمان، بلوچ اور نورستانی برادریاں صدیوں سے آباد ہیں۔ عمومی اندازوں کے مطابق پشتون آبادی کا تقریباً 40 تا 45 فیصد ہیں، تاجک 25 تا 30 فیصد، ہزارہ 9 تا 15 فیصد جبکہ ازبک اور ترکمان 10 تا 13 فیصد کے درمیان ہیں۔ تاہم موجودہ عبوری حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کی اعلیٰ قیادت میں نسلی نمائندگی کے حوالے سے شدید عدم توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
افغان قیادت اور کابینہ کی تشکیل پر سوالات
طالبان کی رہبری شوریٰ (رہبر شوریٰ) کے بارے میں مختلف تجزیاتی رپورٹس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے بیشتر اراکین کا تعلق پشتون برادری سے ہے۔ اسی طرح 49 رکنی عبوری کابینہ میں تاجک، ازبک، بلوچ اور نورستانی نمائندگی محدود بتائی جاتی ہے، جبکہ ہزارہ برادری اور خواتین کی عدم موجودگی پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مبصرین تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اہم وزارتیں جیسے داخلہ، دفاع، مالیات اور انصاف زیادہ تر ایک ہی نسلی پس منظر رکھنے والی قیادت کے پاس ہونے کا تاثر بھی بین الاقوامی مباحث کا حصہ ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق افغانستان جیسے متنوع معاشرے میں پائیدار استحکام کے لیے جامع اور متوازن سیاسی ڈھانچہ ناگزیر ہوتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر شمولیت نہ دی گئی تو سیاسی محرومی کے احساسات بڑھ سکتے ہیں۔
اقلیتی برادریوں کے خدشات
خاص طور پر ہزارہ برادری، جو زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، اپنی سلامتی اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ ماضی میں ہزارہ آبادی والے علاقوں، مساجد اور تعلیمی مراکز پر حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن کی ذمہ داری اکثر شدت پسند گروہوں پر عائد کی گئی۔ تاجک اور ازبک حلقوں میں بھی محدود نمائندگی اور اختیارات کے بارے میں بحث جاری ہے۔
دوسری جانب طالبان قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ وہ قومی اتحاد اور شریعت کے نفاذ کے تحت ملک چلانے کے لیے کوشاں ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نظام میں بہتری آئے گی۔ تاہم ناقدین اسے علامتی نمائندگی قرار دیتے ہیں اور حقیقی شراکتِ اقتدار کا مطالبہ کرتے ہیں۔
دوحہ معاہدہ اور امریکی کردار
افغانستان کی حالیہ سیاسی صورتِ حال میں زلمے خلیل زاد کا کردار بھی بحث کا موضوع رہا ہے، جنہوں نے امریکہ کی نمائندگی کرتے ہوئے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 2020 میں دوحہ معاہدہ کے بعد امریکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی، جس کے نتیجے میں 2021 میں کابل میں سابقہ جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا اور طالبان نے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔
کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اگر محدود امریکی فوجی موجودگی برقرار رہتی تو سابقہ جمہوری نظام قائم رہ سکتا تھا، جبکہ دیگر تجزیہ کار اسے افغان سیاسی قیادت کی اندرونی کمزوریوں اور تیزی سے بدلتی زمینی صورتِ حال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
نظریاتی حکمرانی اور سماجی اثرات
طالبان کی حکمرانی کو صرف نسلی تناظر میں نہیں بلکہ نظریاتی اور مذہبی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق جب قبائلی روایات اور سخت مذہبی تعبیرات کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو خواتین کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور جدید طرزِ حکمرانی متاثر ہو سکتے ہیں۔ خواتین کی تعلیم اور ملازمت سے متعلق پالیسیوں پر بھی عالمی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
آگے کا راستہ
افغانستان کی پائیدار سلامتی اور ترقی کا انحصار ایک ایسے سیاسی ڈھانچے پر ہے جو تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کو بااختیار بنائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جامع مکالمہ، آئینی اصلاحات اور وسیع البنیاد حکومت ہی ملک کو داخلی استحکام اور عالمی قبولیت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر نسلی و سیاسی تقسیم خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں طاقت کا عدم توازن