"> سراج الدین حقانی کا القاعدہ کو باقاعدہ مدد فراہم کرنے کا اعتراف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

نظریاتی اور آپریشنل ہم آہنگی: سراج الدین حقانی کا القاعدہ کو باقاعدہ مدد فراہم کرنے کا اعتراف

اس اعتراف نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کی نفی کر دی ہے جس میں وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کا القاعدہ جیسی تنظیموں سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔
نظریاتی اور آپریشنل ہم آہنگی: سراج الدین حقانی کا القاعدہ کو باقاعدہ مدد فراہم کرنے کا اعتراف

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی کے ان بیانات نے طالبان حکومت کے اس بیانیے کے پرخچے اڑا دیے ہیں جس میں وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف تعاون کا یقین دلاتے رہے ہیں۔

February 13, 2026

افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک حالیہ اور تہلکہ خیز بیان میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 2005 میں بگرام جیل سے فرار ہونے والے القاعدہ کے سینیئر ارکان کو ناصرف پناہ دی بلکہ ان کی نقل و حرکت میں براہ راست سہولت کاری بھی کی۔ حقانی کا یہ عوامی اعتراف اس عالمی بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات محض اتفاقی یا سطحی نہیں، بلکہ ایک گہرے آپریشنل تعاون پر مبنی رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس اعتراف نے طالبان کے اس دیرینہ دعوے کی نفی کر دی ہے جس میں وہ عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان کا القاعدہ جیسی تنظیموں سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی 37ویں مانیٹرنگ رپورٹ نے بھی ان انکشافات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، القاعدہ آج بھی طالبان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کے لیے ایک “سروس پرووائیڈر” اور “فورس ملٹی پلائر” کے طور پر فعال ہے۔ سراج الدین حقانی کی جانب سے القاعدہ کے اہم ارکان کو لاجسٹک تحفظ فراہم کرنے کا اقرار اقوام متحدہ کے ان خدشات کو ثابت کرتا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے اب بھی محفوظ پناہ گاہیں اور آپریشنل جگہ موجود ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی کے ان بیانات نے طالبان حکومت کے اس بیانیے کے پرخچے اڑا دیے ہیں جس میں وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف تعاون کا یقین دلاتے رہے ہیں۔ حقانی کے الفاظ اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کا امتزاج واضح کرتا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی ایک اسٹریٹجک گہرائی رکھتی ہے، جو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ طالبان کا نظریاتی اور آپریشنل ڈھانچہ اب بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے والا ملک بن کر ابھر رہا ہے۔

دیکھیے: روس کا افغان تاجک سرحدی صورتحال سخت تشویش کا اظہار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *