امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک بھر میں مذہبی اداروں پر اپنی عملداری مضبوط بنانے کے لیے فیصلہ کُن اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ پالیسی کے تحت طالبان انتظامیہ نے تبلیغی جماعت کو باضابطہ طور پر سرکاری نگرانی میں لے لیا ہے، جس کے بعد اس کی آزادانہ دعوتی سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق تبلیغی جماعت کے ارکان اب فقہ حنفی کے مکمل پابند ہوں گے اور انہیں اپنی تمام تر سرگرمیاں حکومتی دارالافتاء کی وضع کردہ ہدایات کے مطابق ترتیب دینا ہوں گی۔ ان ہدایات میں خصوصی طور پر “نظامِ شریعت کی مضبوطی میں اطاعت کے اثرات” جیسے فکری نکات کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں نئی پالیسی کے تحت تبلیغی جماعتوں میں خواتین اور بچوں کی شمولیت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جو مذہبی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم و ضبط کے تابع کرنے کی ایک واضح حکمتِ عملی ہے۔
افغانستان کی اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے لیے بھی یہ ضرورت اجاگر ہو رہی ہے کہ غیر رجسٹرڈ مدارس اور آزاد خطباء کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک گیر سطح پر مدارس کی رجسٹریشن، نصاب کی ہم آہنگی اور مذہبی خطابت کو آئینی اصولوں کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک جامع فریم ورک، جو مالی شفافیت اور احتسابی ڈھانچے پر مبنی ہو، نہ صرف ریاستی عملداری کو مضبوط کرے گا بلکہ متوازی بیانیوں کی روک تھام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ان اصلاحات کا نفاذ محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں ایک تزویراتی تقاضا بھی ہے۔ ماہرینِ امورِ خارجہ اور دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں مذہبی بیانیے کی مکمل ریاستی ملکیت کے بعد پاکستان میں موجود غیر منظم مذہبی تنظیمیں سرحد پار سے آنے والے اثرات کے لیے آسان ہدف ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکام کے مابین ایک مربوط حکمتِ عملی، جسے جید اور معتدل علماء کی تائید حاصل ہو، ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں مدارس و یونیورسٹیز کے مابین باہمی ہم آہنگی اور مالی معاونت کے ذرائع کو دستاویزی شکل دینا ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف انتہا پسندانہ رجحانات کا سدِباب کریں گے، بلکہ سماجی ہم آہنگی اور ریاست کی نظریاتی اساس کو بھی مزید مستحکم بنائیں گے۔
دیکھیے: افغانستان میں قندھاری اور حقانی دھڑوں میں پراکسی جنگ کی تیاریاں