افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی آنے لگی ہے۔ ہرات، پنجشیر اور قندھار میں مختلف حملوں کے دوران طالبان اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ مزاحمتی گروہوں کے مطابق ان کارروائیوں میں طالبان کمانڈر سمیت متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی تنظیم افغان گرین ٹرینڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہرات شہر میں طالبان کی ایک پولیس چیک پوسٹ کو دھماکے سے تباہ کردیا گیا۔
پنجشیر میں حملے
پنجشیر میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق ایک کارروائی میں تین طالبان اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ تلاشی کے دوران ایک اور اہلکار بھی مارا گیا۔
دوسری جانب احمد مسعود کی سربراہی میں سرگرم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجشیر کے ضلع رُخہ میں ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران طالبان کا ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
جنرل سمیع سادات کی سربراہی میں سرگرم افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق قندھار کے ضلع ارغنداب میں ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران طالبان کمانڈر رحیم اللہ روحانی سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔
تینوں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے سامنے آنے والے دعوے افغانستان میں طالبان مخالف سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں





