افغانستان میں طالبان کی زیرِ قیادت قائم نظامِ حکومت اور سیکورٹی کی ابتر صورتحال نے عالمی سطح پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنی حالیہ ایڈوائزری میں افغانستان کو ‘لیول 4’ کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے اسے سفر کے لیے انتہائی پُر خطر اور غیر محفوظ ملک قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد وہاں موجود سنگین سیکورٹی خطرات اور غیر ملکیوں کو قانونی و سفارتی تحفظ کی عدم موجودگی بتائی گئی ہے۔
افغانستان دہشت گردی کا مرکز
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37 ویں اور 16 ویں رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی بدستور برقرار ہے اور تقریباً 20 سے زائد شدت پسند گروہ طالبان کی سرپرستی میں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں میں القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان اور ای ٹی آئی ایم شامل ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت افغانستان میں 13 ہزار سے زائد غیر ملکی دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جو سرحد پار دہشت گردی اور عالمی نیٹ ورکس کو تقویت دے رہے ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان گروہوں کو سنائپر سسٹمز، نائٹ ویژن آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی جیسے جدید ترین ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہو چکی ہے، جس سے ان کی ہلاکت خیزی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
We issue Travel Advisories with Levels 1 – 4. Level 4 means Do Not Travel. We assign Level 4 based on local conditions and/or our limited ability to help Americans there. These places are dangerous. Do not go for any reason.
— TravelGov (@TravelGov) February 11, 2026
The Travel Advisories for the following countries… pic.twitter.com/bCD9DNtzZA
امریکی محکمۂ خارجہ نے افغانستان کو لیول 4 یعنی “سفر نہ کریں” کی سفری ہدایت میں شامل رکھا ہے، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات اور محدود قونصلر معاونت بتائی گئی ہے۔
انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی کمیشن (USCIRF) نے افغانستان کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کا نظامِ عدل مذہبی اقلیتوں، بالخصوص حنفی مسلک کے علاوہ مسلم آبادی، ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے لیے شدید امتیازی سلوک کا باعث بن رہا ہے۔ افغانستان میں رائج نیا فوجداری ڈھانچہ بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر سرعام کوڑے مارنے، سنگسار کرنے اور سرعام پھانسی جیسی سزاؤں پر مبنی ہے، جو کہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان اس وقت ‘صنفی اپارتھائیڈ’ کی لپیٹ میں ہے، جہاں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدرسوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو کہ غیر جانبدار تعلیمی اداروں کے بجائے مخصوص نظریاتی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی ڈھانچہ نئی نسل میں انتہا پسندی کی آبیاری کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دیکھیے: ترلائی واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کا انکشاف، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب