یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے

March 10, 2026

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی نامزدگی کو غیر متوازن اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے

March 10, 2026

 تیل کے بعد پانی کی جنگ؟؟؟

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے
ایران امریکہ کی مسلم ممالک کے خلاف سازش

خلیج کو قدرت نے تیل اور گیس سے مالا مال کیا مگر پانی جیسی نعمت سے محروم رکھا، خلیج کے ممالگ سمندری پانی کو صاف کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں

March 10, 2026

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صدیوں سے تیل کی دولت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ دنیا کے نقشے پر یہ خطہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں زمین کے نیچے سیاہ سونا بہتا ہے۔ مگر تاریخ کے اس موڑ پر ایک ایسی حقیقت سر اٹھا رہی ہے جو مشرق وسطی کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔خلیج کے ممالک کے پاس تیل تو بے پناہ ہے، مگر پانی نہیں۔ اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس کمزوری کو ہتھیار بنانے کی تیاری کر چکی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ تیل کی جنگ کے بعد اب پانی کی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔

2026 کے حالیہ واقعات پر ایک نظر ڈالیں تو تصویر کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا جواز ہمیشہ کی طرح جوہری پروگرام کو بنایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اصل مسئلہ صرف جوہری ہتھیار ہوتے تو نشانہ صرف جوہری تنصیبات ہوتیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، حملوں کا دائرہ جوہری مراکز سے آگے بڑھ کر تیل کے ڈپوؤں، بندرگاہوں اور یہاں تک کہ پانی کے بنیادی ڈھانچے تک جا پہنچا۔ قشم آئی لینڈ کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے نے تیس دیہات کی پانی کی فراہمی معطل کر دی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، یہ دراصل ایک نئے باب کی شروعات ہو سکتی ہے ، پانی کو جنگ کا ہتھیار بنانے کا باب

ایران نے بھی جواب میں وہی راستہ اختیار کیا۔ بحرین کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر ڈرون حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب جنگ کا دروازہ کھلتا ہے تو اصول اور اخلاقیات سب سے پہلے مر جاتے ہیں۔ یوں ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں پانی کی تنصیبات جنگی اہداف بنتی جا رہی ہیں۔     

خلیج کی پوشیدہ کمزوری

خلیج کی حقیقت بڑی تلخ ہے۔ خلیج کو قدرت نے تیل اور گیس سے مالا مال کیا مگر پانی جیسی نعمت سے محروم رکھا، خلیج کے ممالگ سمندری پانی کو صاف کر کے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس خطے میں چار سو سے زیادہ ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں جو دنیا کے تقریباً چالیس فیصد میٹھے پانی کی پیداوار کرتے ہیں۔ بحرین، کویت اور قطر جیسے ممالک تقریباً مکمل طور پر اسی نظام پر زندہ ہیں۔ کویت میں تو نوّے فیصد پینے کا پانی سمندر کے پانی کو صاف کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ پلانٹس چند دن کے لیے بھی بند ہو جائیں تومحض کچھ ہی دنوں میں بڑے شہر پیاس کے صحرا میں بدل سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں قدرتی میٹھا پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے برسوں میں خطے کی معیشت کو چودہ فیصد تک نقصان ہو سکتا ہے۔ گویا پانی کی کمی صرف انسانی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی تباہی کا پیش خیمہ بھی ہے۔

ہرموزکی تنگا اور پیاسا خطہ

اس سارے منظرنامے میں ہرموز کی تنگا نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وہ آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا کے پچیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور روزانہ سولہ ملین بیرل سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ اور جنگ کے نتیجے میں یہ راستہ بند ہو چکا ہے، جب  تیل کی ترسیل ممکن نہیں رہی تو خوراک، امداد اور پانی کی فراہمی کیسے ممکن ہو گی۔

خلیج کے ممالک میں پانی کا ذخیرہ انتہائی محدود ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پاس زیادہ سے زیادہ پینتالیس دن کا ذخیرہ ہے جبکہ چھوٹے ممالک میں یہ مدت اس سے بھی کم ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر ڈی سیلینیشن پلانٹس اسی طرح تباہ ہوتے رہیں اور ہرموز کی تنگا بند رہے تو کیا ہو گا۔ پانی چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ ہسپتال بند ہونے لگیں گے، بیماریاں پھیلیں گی، بازاروں میں ہنگامے ہوں گے اور لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا سانحہ دیکھا گیا ہو جہاں پیاس اتنی بڑی تباہی کا سبب بنی ہو۔

امریکہ اور اسرائیل کی شطرنج

یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی اور اسرائیلی حکمتِ عملی کا اصل  مکروہ چہرہ سامنے آتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کا شور دراصل ایک پردہ ہے۔ اصل کھیل خطے کے طاقت کے توازن کو بدلنے کا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب جانتے ہیں کہ اگر مسلم ممالک آپس میں الجھ جائیں تو خطہ ہمیشہ کے لیے عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

ایران پر حملے ہوں گے، ایران جوابی کارروائی کرے گا، خلیجی ممالک اس میں گھسیٹ لیے جائیں گے، اور یوں مسلم دنیا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائے گی۔ یہ بالکل وہی منظر ہے جو عالمی طاقتیں دیکھنا چاہتی ہیں۔ ایک ایسا خطہ جہاں مسلمان ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں اور مغربی دنیا اس آگ پر ہاتھ سینکے۔

پانی کو ہتھیار بنانے کی تاریخ

تاریخ اس خطرناک رجحان کی گواہ ہے کہ ماضی میں بھی پانی آلہ جنگ بنتا رہا ہے اس کی سب سے بڑی مثال واقعہ کربلا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل نے پانی کے بنیادی ڈھانچے پر دو سو پچاس سے زیادہ حملے کیے۔ غزہ میں پائپ لائنیں تباہ ہوئیں اور صاف پانی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ شام اور عراق میں داعش نے ڈیموں کو بند کر کے سیلاب اور قحط دونوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔

گویا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی روایت نئی نہیں، مگر اب یہ ہتھیار پہلے سے کہیں زیادہ مہلک شکل اختیار کر رہا ہے۔

مسلم دنیا کی خاموشی

اصل المیہ یہ ہے کہ مسلم دنیا اس کھیل کو سمجھنے کے باوجود متحد نہیں ہو سکی۔ اسلامی تعاون تنظیم نے صرف تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔ سعودی عرب اور ترکی نے محتاط بیانات دیے، مگر کوئی واضح مشترکہ حکمتِ عملی سامنے نہ آ سکی۔

یہی تقسیم دراصل واشنگٹن اور تل ابیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اسی خاموشی نے دشمن کا آدھے سے زیادہ کام خود کر دیا ہے کیونکہ جب مسلم ممالک خود ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں تو امریکہ یا اسرائیل کر محنت کرنے کی کیا ہی ضرورت؟

انجام کی ہولناک تصویر

یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ نہیں ہے۔ یہ جنگ وسائل کی جنگ ہے۔ تیل کے بعد اب پانی اگلا محاذ بننے جا رہا ہے۔

اور اگر اس خطرناک کھیل کو نہ سمجھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب خلیج کے شہر ایک عجیب المیے کا منظر پیش کریں گے۔ ہسپتالوں میں مریض نہیں، پیاس سے تڑپتے انسان ہوں گے۔ بازاروں میں تجارت نہیں، پانی کی بوتلوں پر جھگڑے ہوں گے۔

یہ وہ جنگ ہے جس میں گولیاں کم اور قبریں زیادہ ہوں گی۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ کہ آج دنیا کے نقشے پر مسلم ممالک کی تعداد ستاون ہے، مگر افسوس کہ طاقت کے اس شوریدہ زمانے میں یہ ستاون ریاستیں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ تاریخ کے آئینے میں یہ منظر مسلم امت کے لیے سب سے بڑی شرمندگی ہے کہ اتنی بڑی امت مٹھی بھر یہودیوں کے ہاتھوں بے بس ہو چکی ہے۔ پوری دنیا کی چھبیس فیصد آبادی مسلمان ہونے کے باوجود اپنے وسائل، اپنی سرزمین اور اپنے مستقبل کی حفاظت کرنے میں ناکام  اور محض اپنے ہم مذہب بہن بھائیوں  کوکٹتا اور مرتا دیکھنے پر مجبور ہے ، بجائے اس کے کہ کوئی دشمن کو للکارے تمام ممالک خاموشی سے اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں

ہو گیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تیر ا دل نہیں دانائے راز

سوال یہ نہیں کہ اس جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہو گا

اصل سوال یہ ہے:
کہ مسلم امت اپنے خواب غفلت سے کب اور کیسے بیدار ہو گی؟ کیا اسے جھنجھوڑنے کے لئے دوبارہ کسی اقبال جیسے مفکر کی صدا درکار ہے ؟

دیکھئیے:امریکی دھمکیاں مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل رہی ہیں :چین

متعلقہ مضامین

امریکا اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کو مضبوط بنانے سے نہ صرف معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی

March 10, 2026

بحرین نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس جغرافیائی ڈیٹا اور اسٹریٹیجک معلومات فراہم کرنے کے الزام میں بھارتی ٹیلی کام انجینیئر نتین موہن کو گرفتار کر لیا ہے

March 10, 2026

پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے

March 10, 2026

طالبان کے وزیر سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان جنگ پر رپورٹ مکمل کرلی ہے، جس میں طالبان کے بھاری جانی و مالی نقصانات، جنگجوؤں کی کمی اور جبری بھرتیوں کی تجویز کا انکشاف کیا گیا ہے

March 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *