سینئر تجزیہ کار عامر خاکوانی نے کہا ہے کہ عالمی اور علاقائی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے جو ان کی غیر واضح اور غیر مستقل پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اسرائیل ایران کے خلاف محض جنگ بندی نہیں بلکہ اس کو مکمل طور پر کمزور یا ختم کرنے کے عزائم رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی بھی براہ راست جنگ کے اثرات پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے، اس لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔
عامر خاکوانی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا بھی ان اقدامات کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان ایران کے معاملات کو بہتر طور پر سمجھتا ہے، جبکہ پاکستان نے امریکہ کو بھی مذاکرات کی جانب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے داخلی اور خارجی معاملات خود طے کرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی علماء سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والا پروپیگنڈا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کسی کو بھی بیرونی ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ فرقہ واریت کا خاتمہ ریاست کی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے اور قومی اتحاد کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
عامر خاکوانی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اپنی بقا اور استحکام کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط داخلی استحکام کے بغیر نہ تو سفارتی کامیابیاں ممکن ہیں اور نہ ہی علاقائی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
یہ گفتگو انہوں نے ایچ ٹی این اردو کے پلیٹ فارم پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر منعقدہ اسپیس سیشن کے دوران کی۔
دیکھیے: پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے: مائیکل کوگلمین