متحدہ عرب امارات میں مقیم تجزیہ نگار امجد طہٰ نے ایران مخالف ایک انتہائی جارحانہ بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امن مذاکرات اور مصالحتی کوششوں کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ امجد طہٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے اسلام آباد میں سرجوڑ کر بیٹھی ہیں، تاہم وہ مسلسل اسرائیل کے سخت گیر سکیورٹی بیانیے سے ہم آہنگ اشتعال انگیز پیغام رسانی کر رہے ہیں۔ ان کے پیغام کی ٹائمنگ، لہجہ اور انتہا پسندانہ انتخاب اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ وہ امن کے بجائے خطے میں اسرائیل نواز ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔
As long as the UAE is not in Islamabad, JD Vance and the Islamic regime in Iran will fail in Pakistan. The UAE does not, and will not, accept the Islamic regime in Iran controlling access to the Strait of Hormuz, nor possessing nuclear weapons, ballistic missiles, drones, or any…
— Amjad Taha أمجد طه (@amjadt25) April 11, 2026
نیتن یاہو سے قربت
امجد طہٰ اس وقت اسرائیلی صیہونی بیانیے کے ایک بڑے آلہ کار کے طور پر بے نقاب ہو چکے ہیں، جو خلیج میں سفارت کاری کے بجائے براہِ راست ٹکراؤ اور جنگ پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ان کی بار بار کی عوامی قربت اور ملاقاتیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کے تمام پیغامات دراصل اسرائیلی اسٹریٹجک سینٹرز سے کنٹرول ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی مخالفت کر کے وہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کا اصل مقصد خطے میں جاری تناؤ کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے مزید طول دے کر جنگی صورتحال پیدا کرنا ہے۔
آگ میں دھکیلنے کی سازش
تجزیہ کاروں کے مطابق امجد طہٰ کی پیغام رسانی کا اصل ہدف خلیجی ریاستوں کو ایک ایسے وسیع تنازع میں گھسیٹنا ہے جس کا فائدہ صرف اسرائیل کو پہنچے۔ سفارت کاری اور مذاکرات کو مسترد کر کے وہ جس جنگ پسند بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، اس سے خلیج کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ خلیجی خطے کو ترقی اور استحکام کے زون کے بجائے عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ کا میدانِ جنگ بنانے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ پاکستان کی جانب سے تناؤ روکنے کی کوششوں پر ان کی تنقید جنگ کی وکالت اور پرامن حل کے درمیان موجود واضح فرق کو نمایاں کرتی ہے۔
جنگی پراپیگنڈا اور معاشی عدم استحکام کے خطرات
انسانی ہمدردی کے بڑھتے ہوئے عالمی خدشات کے باوجود امجد طہٰ کی جانب سے اشتعال انگیزی کو ترجیح دینا معصوم شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ ایسی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے نہ صرف توانائی کی عالمی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں شدید معاشی عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امجد طہٰ کا یہ بیان کوئی علمی تجزیہ نہیں بلکہ کمنٹری کے لبادے میں چھپا “جنگی پراپیگنڈا” ہے، جس کا واحد مقصد مسلم ممالک کے درمیان تفریق پیدا کرنا اور خطے کو آگ کے حوالے کرنا ہے۔ ان کے عزائم کو بروقت بے نقاب کرنا اب علاقائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔