افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اگرچہ کابل بار بار ملک میں مکمل استحکام کا دعویٰ کرتا رہا ہے، تاہم دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک سامنے آنے والے اعداد و شمار اس بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس عرصے کے دوران طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کی متعدد کارروائیاں رپورٹ ہوئیں جن میں بنیادی طور پر نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ متحرک نظر آئے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ان تین ماہ میں طالبان کے 76 جنگجو ہلاک، 40 زخمی جبکہ 5 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار مزاحمتی گروہوں کے دعووں اور آزاد ذرائع سے حاصل شدہ رپورٹس پر مبنی ہیں، کیونکہ طالبان عموماً ایسے واقعات کی سرکاری تصدیق نہیں کرتے۔ یہ کاروائیاں عموما گوریلا طرز پر کی جاتی ہیں۔
افغانستان کی تاریخ گروہوں اور دھڑوں کے درمیان باہمی کشمکش اور لڑائیوں سے بھری پڑی ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی مہینوں میں ملک میں نسبتاً سکون دکھائی دیا اور عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ صورتحال قابو میں ہے اور ریاستی نظم و نسق بحال ہو رہا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سکیورٹی اور گورننس سے متعلق مسائل دوبارہ نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ، مقامی سطح پر مسلح جھڑپیں اور انتظامی کمزوریاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ افغانستان کو درپیش اندرونی چیلنجز بدستور موجود ہیں اور ملک میں پائیدار استحکام کا حصول اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔
مزاحمت کی نوعیت اور حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق طالبان مخالف کارروائیاں زیادہ تر گوریلا طرز کی مختصر آپریشنز پر مشتمل تھیں۔ ان حملوں میں گھات لگا کر حملے، آئی ای ڈی دھماکے، راکٹ فائر، اور مختصر دورانیے کے شہری حملے شامل تھے جو اکثر چند منٹوں میں مکمل ہو جاتے تھے۔
مزاحمتی گروہوں کا مقصد کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ طالبان کی سکیورٹی مشینری کو مسلسل دباؤ میں رکھنا، جانی نقصان پہنچانا اور نفسیاتی اثر پیدا کرنا تھا۔ زیادہ تر حملے شام یا رات کے وقت کیے گئے تاکہ کارروائی کے بعد فوراً محفوظ مقام پر واپس جایا جا سکے۔
جغرافیائی مرکز: شمالی افغانستان
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ مزاحمتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز شمالی اور شمال مشرقی افغانستان رہا۔ خاص طور پر قندوز، پنجشیر، بدخشاں، بغلان اور فاریاب میں بار بار حملے رپورٹ ہوئے۔ قندوز کو سب سے بڑا ہاٹ اسپاٹ قرار دیا گیا جہاں چیک پوسٹس، گشتی گاڑیوں اور بھرتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
پنجشیر میں حملوں کی تعداد نسبتاً کم تھی مگر ہلاکتیں زیادہ ہوئیں، جن میں ایک کارروائی میں 17 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ سامنے آیا۔ ہرات، کابل اور پروان میں بھی وقفے وقفے سے کارروائیاں رپورٹ ہوئیں۔
مزاحمتی گروہوں نے خاص طور پر طالبان کے چیک پوسٹس، انٹیلی جنس نیٹ ورک، بھرتی مراکز، عدالتی و مذہبی نفاذ کے دفاتر اور سرحدی یونٹس کو نشانہ بنایا۔ اس حکمت عملی کا مقصد طالبان کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور ان کی حکمرانی کے بنیادی نظام میں خلل ڈالنا تھا۔ شہری علاقوں میں انٹیلی جنس گاڑیوں اور گشتی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے، جن میں کابل اور قندوز نمایاں رہے۔
نمایاں کارروائیاں
7 اور 8 دسمبر 2025 کو پنجشیر کے دارا ضلع میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ایک بڑا حملہ کیا جس میں پہلے بارودی سرنگ سے دھماکہ کیا گیا اور اس کے بعد راکٹ حملے کیے گئے۔ اس کارروائی میں 17 طالبان اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ ایک اہم فوجی بیس بھی تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی دوران ہرات اور قندوز میں بھی متعدد حملے کیے گئے جن میں طالبان کے اہلکار مارے گئے اور ان کے ہتھیار قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا۔
دسمبر کے وسط میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے قندوز میں طالبان کے ایک بھرتی مرکز پر حملہ کیا جس میں ایک کمانڈر سمیت دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بدخشاں، فاریاب اور کابل میں بھی طالبان کے انٹیلی جنس یونٹس اور چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2026 میں کابل، قندوز اور فاریاب میں کئی حملے ہوئے جن میں طالبان کی گاڑیاں تباہ ہونے اور اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
فروری اور مارچ 2026 کی صورتحال
فروری میں قندوز، تخار اور بدخشاں میں مزاحمتی سرگرمیوں میں تسلسل رہا۔ قندوز میں آزادی اسکوائر اور مختلف شاہراہوں پر طالبان گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ تخار یونیورسٹی روڈ پر طالبان کے اجتماع پر حملہ کیا گیا۔ مارچ کے آغاز میں ہرات اور قندوز میں مزید کارروائیاں رپورٹ ہوئیں جن میں طالبان کے خصوصی یونٹ اور گشتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
مزاحمتی گروہوں کا سیاسی بیانیہ
این آر ایف اور ات ایف ایف صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے مسلسل سیاسی بیانات اور پیغامات بھی جاری کیے۔ ان گروہوں کا مؤقف ہے کہ طالبان کی حکومت غیر نمائندہ اور جابرانہ ہے۔ انہوں نے طالبان پر سابق افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ، مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگائے۔ مثال کے طور پر اے ایف ایف نے دعویٰ کیا کہ 2025 کے دوران 123 سابق افغان سکیورٹی اہلکار قتل اور 131 لاپتہ کیے گئے۔
انسانی حقوق اور سماجی صورتحال
مزاحمتی گروہوں کی جانب سے جاری رپورٹس میں افغانستان میں اقلیتوں خصوصاً اسماعیلی شیعہ برادری کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی محدود ہو چکی ہے اور کئی علاقوں میں مذہبی اقلیتوں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ اسی طرح معاشی بحران اور بے روزگاری کے باعث لاکھوں افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
مجموعی طور پر دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت ابھی تک کم شدت کی ہے مگر مسلسل جاری ہے۔ مزاحمتی گروہ براہ راست علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کے بجائے گوریلا حملوں کے ذریعے طالبان پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر مستقبل میں انہیں مزید وسائل، تنظیمی ہم آہنگی یا بیرونی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ کم شدت کی مزاحمت ایک بڑے تنازع میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔
علاقائی اثرات
افغانستان کی یہ صورتحال صرف داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے اہم ہے۔ ایک غیر مستحکم افغانستان میں شدت پسند گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے، سرحدی کشیدگی اور مہاجرین کے نئے بحران جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے ممالک، خصوصاً پاکستان، وسطی ایشیائی ریاستیں اور ایران، افغانستان کی سکیورٹی صورتحال کو اپنی قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
دسمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے باوجود مسلح مزاحمت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کی کارروائیوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے شمالی حصوں میں طالبان کے خلاف کم شدت کی گوریلا جنگ جاری ہے، جو مستقبل میں افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔