"> طالبات پر مسلح گروہوں کا دباؤ اور استحصال؛ ثانیہ بلوچ کے والد کا بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبات پر مسلح گروہوں کا دباؤ اور استحصال؛ ثانیہ بلوچ کے والد کا بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

آواران سے تعلق رکھنے والی طالبہ ثانیہ کے والد نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو جھوٹے نعروں سے ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں
آواران سے تعلق رکھنے والی طالبہ ثانیہ کے والد نے پریس کانفرنس میں بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان لڑکیوں کو جھوٹے نعروں سے ورغلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں

آواران کی طالبہ ثانیہ کی گمشدگی کے پیچھے تخریبی گروہوں کا ہاتھ ہونے کا انکشاف؛ والد کی پریس کانفرنس اور بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

February 21, 2026

بلوچستان کے ضلع آواران سے تعلق رکھنے والی نوجوان طالبہ ثانیہ کی گمشدگی کے معاملے میں ایک اہم اور افسوسناک موڑ سامنے آیا ہے۔ ثانیہ کے والد نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران اپنی بیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کی بیٹی تخریبی گروہوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر غلط راستے پر نکل گئی ہے۔

دباؤ اور ورغلانے کا انکشاف

ثانیہ جو 30 دسمبر 2025 سے لاپتہ ہے، کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے اور بی وائی سی جیسے گروہ نوجوان طالبات کو نفسیاتی دباؤ، جھوٹے نعروں اور جذباتی ورغلاؤ کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ خاندان کے مطابق، ان گروہوں کا مقصد نوجوان لڑکیوں کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور اپنے مخصوص سیاسی و عسکری ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا ہے۔

لاتعلقی کا اعلان

پریس کانفرنس کے دوران ثانیہ کے والد نے انتہائی رنجیدہ لہجے میں کہا کہ ان کی بیٹی نے خاندان کی روایات اور والدین کی تربیت کے برخلاف ان گروہوں کا انتخاب کیا جو بلوچستان کے امن کے دشمن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل کے بعد ان کا ثانیہ سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ سماجی ماہرین اس واقعے کو بلوچ معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں خاندان اب اپنے بچوں کو دہشت گرد تنظیموں کے آلہ کار بننے سے بچانے کے لیے کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

بلوچ خواتین کے تحفظ کی اپیل اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں #BalochFamiliesAgainstExploitation اور #ProtectBalochWomenFromTerror جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بلوچ خواتین کو ان گروہوں کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی طالبات کو نشانہ بنانا ان تنظیموں کی اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو معصوم ذہنوں کو برین واش کر کے انہیں اپنے ہی خاندانوں کے خلاف کھڑا کر رہی ہیں۔

دیکھیے: باجوڑ میں 11 فوجیوں کی شہادت پر شدید احتجاج

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *