بھارتی ٹی وی چینل کے ایک مباحثے میں اینکر ارنب گوسوامی کو اس وقت سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب انمول نے بھارت میں طلبہ کے احتجاج کو پاکستان سے جوڑنے کے دعوؤں پر ثبوت مانگ لیے۔ بحث کے دوران دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ انمول نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت سے سوال کرنے والے نوجوانوں کو پاکستانی یا غیر ملکی ایجنٹ قرار دینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
مباحثے میں ارنب گوسوامی نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کانگریس اور طلبہ کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور اسے مبینہ اینٹی انڈیا ٹول کٹ سے جوڑا۔ اس کے جواب میں انمول نے سوال اٹھایا کہ سوشل میڈیا پر کسی احتجاج کی حمایت ہونے سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اس تحریک کو پاکستان چلا رہا ہے؟
انہوں نے انتخابی بے ضابطگیوں، نوجوانوں کے احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر کو حاصل قانونی تحفظ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ الزامات لگانے کے بجائے شواہد پیش کیے جائیں۔
انمول نے زور دیا کہ بھارت کے نوجوان حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ مباحثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ’’انمول نے ارنب کو ان کے اپنے انداز میں جواب دیا‘‘ جیسے تبصروں کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے۔





