افغانستان کے وسطی زون کے ہزارہ اکثریتی صوبے دکندی میں طالبان حکومت نے جائیداد سے متعلق ہر قسم کے لین دین کو انٹیلی جنس اداروں کی پیشگی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں رئیسِ عدلیہ دکندی، وزارتِ داخلہ کابل، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) اور حیران کن طور پر محکمہ پاسپورٹ سمیت متعدد اداروں کی مہروں سے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق طالبان حکومت نے ایک نئے قانون کے تحت صوبے کے تمام رہائشیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ جائیداد کی خرید و فروخت، کرایہ، رہن اور دیگر تمام پراپرٹی ٹرانزیکشنز صرف سرکاری طور پر مقرر کردہ ٹرانزیکشن بروکرز کے ذریعے انجام دیں گے۔ ان بروکرز کو یہ بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہر لین دین کی مکمل تفصیلات انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کی منظوری کے بغیر کسی بھی پراپرٹی معاملے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکے گی، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا بھی دی جا سکے گی۔

اس حکم نامے کا دائرہ کار صرف رہائشی گھروں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں کرایہ داری، رہن، دکانوں، سراؤں، گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں کے کرائے اور شہری زندگی و مقامی معیشت سے جڑی تقریباً ہر قسم کی جائیداد اور اس سے متعلق لین دین شامل ہے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ عام شہری اپنی ذاتی ملکیت کے بارے میں بھی آزادانہ فیصلہ کرنے کے بجائے انٹیلی جنس اداروں کی اجازت کا پابند ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق (S#2) اس حکم نامے کا اصل مقصد غیر پشتون علاقوں میں جائیداد کی خرید و فروخت، کرایہ داری اور بیرونی افراد کی آمد و رفت کو کنٹرول اور مانیٹر کرنا ہے، جبکہ ان علاقوں میں پشتون آبادی کو لا کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جی ڈی آئی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران سے آنے والے ہزارہ مہاجرین دکندی میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں، جن میں بڑی تعداد ان افراد کی ہے جن کا تعلق ماضی کی طالبان مخالف حکومت سے رہا ہے۔ طالبان حکومت ایسے افراد کی اندرونِ ملک نقل و حرکت کا ریکارڈ رکھنا اور انہیں کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر پشتون علاقوں میں پہلے ہی فروخت ہونے والی جائیدادوں کی پشتون خریداروں، بالخصوص قندھار اور ہلمند سے تعلق رکھنے والے افراد کو خریداری کی ترغیب دی جاتی رہی ہے، جبکہ نئے قانون کے ذریعے اس عمل کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ نئے ضابطے کے تحت ہزارہ جات میں انٹیلی جنس کے ذریعے جائیداد کی فروخت کو اس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے کہ غیر پشتونوں کے لیے خریداری عملاً ناممکن بن جائے اور پشتونوں کو ان علاقوں کا مالک بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ طرزِ عمل صرف دکندی تک محدود نہیں بلکہ شمالی افغانستان کے متعدد علاقوں، خصوصاً بدخشاں، تخار، بلخ، سرپل اور فاریاب کے بعض اضلاع سے بھی اسی نوعیت کی پابندیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ان علاقوں میں پرانے مالکان کو مختلف قانونی اور انتظامی بہانوں کے تحت دستاویزات کی تصدیق کے نام پر طلب کیا جاتا ہے، ملکیت کو متنازع قرار دیا جاتا ہے اور بالآخر پشتون خریداروں کے حق میں منتقل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، ان صوبوں میں سابق سرکاری اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز سے وابستہ افراد یا بیرونِ ملک منتقل ہونے والوں کی جائیدادیں کسی عدالتی کارروائی کے بغیر طالبان کے پشتون کمانڈروں کے قبضے میں دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس نسل پرستانہ پالیسی کے باعث اب تک پرامن سمجھے جانے والے دکندی صوبے میں بھی بے چینی اور انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً دکانوں اور ہوٹلوں سے متعلق معاملات میں حکومتی ادارے غیر معمولی طور پر سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2021 سے اب تک دکندی اور ارزگان کے اضلاع پاتو (Pato)، گیزاب (Gizab) اور تگابدار (Tagabdar) میں کم از کم 15 دیہات سے 2,800 خاندانوں کو جبری طور پر بے دخل کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی قانون سازی کے ذریعے ان بے دخلیوں کو قانونی جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی نوعیت کی کارروائیاں بلخ اور قندوز میں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں، جہاں مقامی آبادی کو بے دخل کر کے ان کی جائیدادیں پشتونوں کے حوالے کی گئیں۔
قندوز میں ہزارہ برادری سے چھینی گئی جائیدادیں مہاجرین کی آبادکاری کے نام پر دہشت گرد تنظیم لشکرِ اسلام اور گل بہادر گروپ سے وابستہ افراد میں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب قندھار، ہلمند اور غزنی کے پشتون اکثریتی علاقوں میں صدیوں سے آباد ہزارہ آبادیوں کو بھی سرکاری اراضی قرار دے کر جبراً خالی کروایا جا چکا ہے۔ ہلمند میں ایسے ہی جبری طور پر خالی کروائے گئے علاقوں میں بعد ازاں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے لیے محفوظ ولاز تعمیر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی یہ پالیسی نہ صرف نسلی بنیادوں پر آبادی کی ازسرِ نو تشکیل کی عکاس ہے بلکہ اس سے افغانستان میں سماجی ہم آہنگی، داخلی استحکام اور اقلیتی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں برفانی تودہ گرنے سے ٹی ٹی پی کے 35 ارکان ہلاک، مزید ہلاکتوں کا خدشہ