آصف محمود پاکستان کے سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے قومی و بین الاقوامی اداروں سے منسلک ہیں اور ان کی تحاریر عالمی سطح پر قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔
سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔
بنگلہ دیش ایک بڑے بحران سے گزرا ہےا ور اس نے الیکشن کروا لیے ہیں ، انتقال اقتدار ہو رہا ہے۔ جو جماعت اسلامی کل تک حسینہ واجد کے ٹارچر سیلوں میں قتل ہو رہی تھی اب دوسری بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ سب کی کامیابی ہے۔ یہ بنگلہ دیش کی کامیابی ہے۔
اس معاشرے اور حکومت کو اب یکسو ہونا ہو گا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جتنی خطرناک دہشت گردی ہے اتنا ہی خطرناک یہ پوسٹ ٹیررازم ہے۔ جتنے خطرناک یہ دہشت گرد ہیں ، اتنے ہی خطرناک یہ پوسٹ ٹیرسٹ ہیں۔ دہشت گردی سے نبٹنا ہے تو پوسٹ ٹیررازم سے بھی نبٹنا ہو گا۔ بندوق اور بم والا دہشت گرد بھی خطرناک ہے اور انفارمیشن وار والا دہشت گرد بھی خطرناک ہے۔
کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔
سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟
سوال کے راستے میں کلٹ آ جائے تو مسافت طویل تو ہو سکتی ہے ، سفر ختم نہیں ہوتا۔ سوال منزل پر پہنچا اور اس نے ذہنوں پر دستک دی کہ اگر امریکہ ہی انہیں نکالنے کی سازش میں ملوث تھا تو اوورسیز انقلابی جن کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے ، ایک آدھ مظاہرہ واشنگٹن یا نیو یارک میں امریکہ کے خلاف کیوں نہیں کر لیتے؟ ہیجان پیدا اکرنے کے لیے کیا پاکستان ہی آسان شکار نظر آتا ہے۔
اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی
انٹر نیشنل لا کو پامال کرنے کی رسم بھی ٹرمپ نے نہیں ڈالی ۔ یہ پامالی اقوام متحدہ کا اپنا ورثہ ہے۔ چارٹر تو یہی کہتا ہے کہ کسی ملک کی سلامتی کو پامال نہیں کیا جا سکتا کہ اقوام متحدہ نے اپنے اس اصول کو روندتے ہوئے فلسطین کی سلامتی کو روند ڈالا اور اس کی ناجائز تقسیم کر کے وہاں اسرائیل نام کی ریاست قائم کروا دی۔ پھر اسرائیل کو اپنا رکن بنا لیا اور فلسطین کو آج تک رکنیت نہیں ملی۔