بلوچستان کے ضلع چاغی میں فرنٹیئر کور کی کارروائی میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 71 غیر قانونی افغان شہری گرفتار کر لیے گئے۔

July 24, 2026

ٹانک پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کا حملہ سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس میں 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے، تاہم بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے میں 15 بہادر سپوت شہید ہو گئے۔

July 24, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید شدت آ گئی، ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 55 افراد جاں بحق اور 645 زخمی ہوئے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو بھی نشانہ بنایا۔

July 24, 2026

تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا، ظلم کی سلطنتیں مٹ گئیں، مگر حق کی آواز باقی رہی۔ بھارت میں جو اس وقت ہو رہا ہے، اگرچہ اس کا نتیجہ فی الفور ظلم سے نجات نہ بھی ہو، لیکن یہ اس بات کی بنیاد ہے کہ ظلم مٹنے والا ہے۔

July 24, 2026

بھارت میں پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلٹ گنز کا استعمال اور ریاستی تشدد امتحانی نظام کی تباہی اور جمہوریت کے نام پر جبر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

July 24, 2026

بھارت میں تعلیمی بدعنوانی کے خلاف طلبہ احتجاج کی حمایت میں سچن ٹنڈولکر، سلمان خان اور نصیر الدین شاہ سمیت متعدد معروف شخصیات سامنے آ گئی ہیں۔

July 24, 2026

محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننا کس کی کامیابی ہے؟

اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی
اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی

یہ فیصلہ بظاہر بصیرت سے نہیں ، رد عمل کی نفسیات سے پھوٹا ہے۔ چونکہ اچکزئی صاحب ا سٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہتے ہیں ا س لیے وہ نگاہ انتخاب میں جچ گئے

January 17, 2026

محمود اچکزئی صاحب کی اپوزیشن لیڈر کے طور پر تقرری کو تحریک انصاف اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن کیا یہ واقعی اس کی کامیابی ہے یا یہ حکومت ہے جو کامیاب ہوئی ہے؟

سب سے پہلا، اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو محمود اچکزئی سے کیا توقعات ہیں؟ تحریک انصاف ان سے مفاہمانہ کردار کی توقع رکھتی ہے یا مزاحمت کی؟

کیا تحریک انصاف کی خواہش یہ ہے کہ محمود اچکزئی ایک سینیئر سیاست دان ہونے کی وجہ سے مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھا کر تحرک انصاف کے لیے کچھ گنجائش ہیدا کر دیں تا کہ عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکے ؟
یا اس کا خیال یہ ہے کہ روایتی طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف سمجھے جانے والے محمود اچکزئی مزاحمت کی سیاست کو ایوان کے اندر اس بلند سطح پر لے جائیں اور حقیقی آزادی کی وہ جنگ لڑیں جو تحریک انصاف کے 6 درجن اراکین اسمبلی نہیں لڑ سکے۔

تحریک انصاف کا مقصد ان دونوں میں سے جو بھی ہو ، وہ خود تحریک انصاف کی سیاست ، معاملہ فہمی اور بصیرت کے خلاف ایک مکمل فرد جرم ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے۔ تو چلیں میں اس کی وضاحت کر دیتا ہوں۔

فرض کریں مفاہمت مطلوب ہے تو اس کے لیے صرف 342 اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی میں پورے 1 عدد “اراکین” کی غیر معمولی اکثریت کی حامل پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کو یہ منصب سونپنا کیا اس بات کا اعلان سمجھا جائے کہ تحریک انصاف کے چھ درجن اراکین اسمبلی میں کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس میں اتنی بصیرت ، صلاحیت ، معاملہ فہمی اور سمجھ بوجھ ہوتی کہ وہ یہ یہ کام کر سکتا؟ بائیس سالہ جدوجہد کے بعد ہاتھ آنے والے الماس کے یہ نگینے کیا ہاتھی کی دانت کی طرح صرف دکھانے کے لیے رکھے گئے ہیں؟ کیا یہ جناب عمران خان کی جانب سے اپنی ہی جماعت کی صلاحیتوں پر عدم اعتماد سمجھا جائے ؟

تحریک انصاف میں ایسے کئی لوگ موجود تھےاور اب بھی ہیں جن کا صف کی دوسری جانب بھی احترام ہے۔ جو بات کر سکتے ہیں اور گرہیں کھول سکتے ہیں ۔ جو مسئلہ سلجھا سکتے ہیں ۔ لیکن ان میں سے کوئی معقول بات بھی کر دے تو تحریک انصاف کے وابستگان سوشل میڈیا پر انہیں غدار قرار دے ڈالتے ہیں اور ان کی ایسی خوفناک کردار کشی کی جاتی ہے کہ الامان۔ حالت یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی جیسے مرکزی رہنما کو بھی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں کہ فواد چودھری جیل میں مجھ سے ملنے آ ہی گئے تھے تو کیا میں ملنے سے انکار کر دیتا۔

اپنی جماعت کے معقول بات کرنے والے رہنماؤں کی تذلیل کرنے کے بعد ، اب اس منصب کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ اسے سیاسی حمکت عملی کہا جائے گا یا سیاسی بصیرت سے محرومی؟

تاہم اگر مقصد معاملہ حل کر کے عمران خان صاحب کی رہائی نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ سلطانی جمہور اور آئین کی سربلندی کی خاطر ، حقیقی آزادی کے لیے پارلیمان کے اندر ایک ایسی جنگ لڑی جائے کہ لوگ پانی پت جیسے معرکوں کو بھول جائیں تو سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو کس نے بتایا ہے کہ اچکزئی صاحب اس کام کے لیے ایک درست انتخاب ہیں؟ آخری معرکے کا یہ علم تحریک انصاف کے اراکین کو کیوں نہیں تھمایا گیا ؟ اچکزئی صاحب کون سے رستم اور سہراب ہیں کہ ان پر نگاہ انتخاب ٹھہری ؟ وہ کون سا ایسا قلعہ فتح کر لیں گے جو عمر ایوب صاحب کی شعلہ بیانی فتح نہ کر سکی؟

یہ فیصلہ بظاہر بصیرت سے نہیں ، رد عمل کی نفسیات سے پھوٹا ہے۔ چونکہ اچکزئی صاحب ا سٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہتے ہیں ا س لیے وہ نگاہ انتخاب میں جچ گئے۔ یہ اضطراری فیصلہ ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک زمانے میں سیاسی قیادت کو نظر انداز کر کے وکلا کی فوج بھرتی کر کے انہیں قیادت سونپ دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اس سے کیا حاصل ہوا؟ کیا مقدمات میں کوئی ریلیف ملا؟ اپنی پارٹی کی قیادت کو نظر انداز کر کے کبھی نواز شریف کے وکیل کو سیکرٹری جنرل بنا لینا اور کبھی اعتزاز احسن کے جونیئر وکیل کو پارٹی کا چیئر مین بنا دینا ، ان متلون مزاج رویوں سے پارٹی کے سیاسی لوگوں کو ایک ہی پیغام جاتا ہے کہ میر کاررواں میں نہیں خوئے دلنوازی۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ محمود اچکزئی صاحب کو منصب تو مل گیا لیکن کیا وہ با اختیار بھی ہوں گے؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ تحریک انصاف ان کے فیصلوں کو قبول کر لیا کرے گی اور ان کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک نہیں ہو گا جو تحریک انصاف والے ایک دوسرے کے ساتھ کرتے رہتے ہیں اور جس کا شکوہ خود اچکزئی صاحب بھی کر چکے ہیں؟

یہاں تو تحریک انصاف والے اپنے سینیئر رہنماؤں کو پلک جھپکتے غداروں کی فہرست میں کھڑا کر دیتے ہیں ، ایسے میں محمود اچکزئی صاحب کی دستار کب تک سلامت رہ پائے گی؟

اچکزئی صاحب کی وجہ سے اگر معاملات میں تعطل اور ڈیڈ لاک ختم ہو جاتا ہے، جن عہدوں پر تعیناتیاں اس لیے رکی ہوئی تھیں کہ اب تک وزیر اعظم ا ور اپوزیش لیڈر میں مشاورت نہیں ہو سکی تھی وہ تعیناتیاں اگر ہو جاتی ہیں اور قومی اسمبلی کی فعالیت میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی ۔ اس کے نتیجے میں بہت جلد یہ وقت آ سکتا ہے کہ حکومت تو اچکزئی صاحب کے ساتھ اچھے انداز سے چل رہی ہو لیکن تحریک انصاف خود ان سے خفا ہو جائے اور ان کے نیچے سے سیڑھی کھینچ لے۔

تحریک انصاف کا عمومی مزاج لا ابالی ہے۔ خان صاحب ایک فیصلہ کرتے ہیں اور کسی کو عہدے پر لا بٹھاتے ہیں تو تحریک انصاف اسے ماسٹر سٹروک قرار دے کر اس کے فضائل بیان کرتی ہےا ور خان صاحب اسی شخص کو جب عہدے سے ہٹا دیتے ہیں تو یہ اسے ولن بنا کر اس کی ہجو کہنا شروع کر دیتی ہے۔

یہ وہ بزم ناز ہے جہاں سے عزت بچا کر نکلتے کسی کو کم ہی دیکھا گیا ہے۔ اب باری اچکزئی صاحب کی ہے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے ۔

دیکھیں: معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کے دفاعی ساز و سامان کی مانگ میں اضافہ: وزیراعظم

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے ضلع چاغی میں فرنٹیئر کور کی کارروائی میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 71 غیر قانونی افغان شہری گرفتار کر لیے گئے۔

July 24, 2026

ٹانک پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کا حملہ سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس میں 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے، تاہم بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے میں 15 بہادر سپوت شہید ہو گئے۔

July 24, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید شدت آ گئی، ایران کا دعویٰ ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 55 افراد جاں بحق اور 645 زخمی ہوئے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو بھی نشانہ بنایا۔

July 24, 2026

تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا، ظلم کی سلطنتیں مٹ گئیں، مگر حق کی آواز باقی رہی۔ بھارت میں جو اس وقت ہو رہا ہے، اگرچہ اس کا نتیجہ فی الفور ظلم سے نجات نہ بھی ہو، لیکن یہ اس بات کی بنیاد ہے کہ ظلم مٹنے والا ہے۔

July 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *