"> کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔
کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

اس بندو بست پر سوال اٹھایا جائے تو جواب آتا ہے یہ موروثی سیاست تو امریکہ اور بھارت میں بھی ہے۔ بالکل ہے لیکن کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ کس تناسب سے ؟ امریکی کانگریس میں6 فیصد ، بھارت میں اس وقت 18 فیصد جب کہ پاکستان میں57 فیصد۔

February 21, 2026

برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ ہر رہنما اپنے حصے کے بے وقوف ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے ، اب سوشل میڈیا سے لے کر گلی محلوں تک ان ہی دلاوروں کا راج ہے ، کسی کے قائد سے ذرا سا اختلاف کر کے دیکھیے یہ آپ پر دھاوا بول دیں گے۔

آپ عثمان بزدار سے سہیل آفریدی تک کسی رستم یا سہراب کی کارکردگی پر سوال کریں تو آپ کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ بغض عمران کا شکار ہیں اور پٹواری ہیں ، آپ پنجاب حکومت سے 10 ارب کے جہاز کا سوال کریں تو آپ پر عشق عمران کی پھبتی کسی جاتی ہے ، آپ کراچی پلازے میں جل مرنے والوں کا سوال اٹھائیں تو بھٹو زندہ ہے والے آپ کو جمہوریت کا دشمن قرار دے ڈالتے ہیں ، آپ کسی مذہبی سیاسی شخصیت سے اختلاف کی جسارت کر لیں تو آپ کھڑے کھڑے لادین قرار دے دیے جاتے ہیں۔

ہر قائد کے گرد عصبیت کی ایک فصیل ہے۔ ہر فصیل پر ان کے حصے کے بے وقوف پہرہ دے رہے ہیں ۔ ہر قائد انقلاب کے حصے کے یہ بے وقوف سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کی عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ برسوں کے تعلقات ایک لمحے میں ختم کر دیں ۔ دوستیاں ہی نہیں یہ خونی رشتے تک داؤ پرلگا دیتے ہیں۔ ان میں کچھ تو ایسے شدید قسم کے بے وقوف ہیں کہ قائد کے کلٹ کے زییر اثر یہ اپنے والدیں سے بھی بے زار بیٹھے ہیں۔ یہ انہیں نفرت اور حقارت سے بومر قرار دیتے ہیں ۔


یہ صرف اپنے اپنے رہنما کے حصے کے مجاور ہیں ۔ ان لشکریوں کو سوشل میڈیا پر چاند ماری کرتے دیکھتا ہوں تو ایک سوال دامن سے آن لپٹتا ہے : جس سیاست پر یہ لوگ پہروں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اس سیاست میں ان کا مقام کیا ہے؟ پاسِ وضع میں قلم بوجھل نہ ہو جاتا تو پوچھتا اس سیاسی نظام میں ان کی اوقات کیا ہے؟ یہ پیادے ہیں ، کارندے ہیں یا نرے مجاور؟


چند گھرانے ہیں جنہوں نے اپنی بادشاہت قائم کر رکھی ہے ۔ مثال کے طور پر دادو میں جتوئی اور پیروں کا گھرانہ ، جیکب آباد ، کندھ کوٹ کشمور میں جاکھرانی ، بجارانی اور مہر خاندان ہے ، سانگھڑ میں پگاڑا ، بالا میں مخدوم ، ٹھٹھہ اور بدین میں شیرازی اور مرزا ، تھر میں سید اور ارباب ، خیر پور میں سید اور وسان ، شکار پور میں مہر اور درانی اور نواب شاہ میں زردادی خاندان کی بادشاہت قائم ہے ۔ ڈیرہ غازی خان میں لغاری ، کھوسہ ، دریشک اور بزدار ، ملتان میں مخدوم ہی مخدوم یا بوسن، راجن پور میں گورچانی اور مزاری، مظفر گڑھ میں کھر ، جتوئی ، دستی اور قریشی ، رحیم یار خان میں گوریجے اور مخدوم، لودھراں میں کانجو ، بلوچ یا ترین ، جھنگ میں بھروانہ اور مخدوم ، خانیوال میں سید اور ہراج ، بھکر میں شوانی ، نوانی اور ڈھانڈلے اور گجرات میں چودھری اپنی اپنی ریاستوں کے بادشاہ ہیں ۔ بلوچستان میں اچکزئی ، رئیسانی ، بگتی ، مینگل اور زہری خاندان نے اپنے اپنی سلطنتیں بنا رکھی ہیں ۔ یہی حال کے پی کے کا ہے ۔

ان قبیلوں اور خاندانوں میں سے بھی ایک دو گھرانے ہوتے ہیں جن کی بادشاہی ہے ۔ قبیلوں کے باقی لوگوں کو صرف خوش ہونے کی اجازت ہے اور وہ ایسے ہی بغلیں بجاتے ہیں کہ ہم اقتدار میں ۔

پہلے یہ واردات صرف جاگیردار گھرانوں نے ڈالی تھی ، پھر عالم یہ ہوا کہ سعد رفیق اپنے بھائی سلمان رفیق اور اہلیہ غزالہ سمیت اسمبلیوں میں جلوہ افروز پائے گئے اور اسد عمر تبدیلی کے فضائل پڑھتے جب کہ ان کے بھائی جان محمد زبیر بیانیے کے فضائل کا ابلاغ کرتے پائے جاتے ۔ بھائی ایک جماعت میں ہوتا ہے بھابھی دوسری جماعت میں ، چچا تیسری جماعت میں اور پھوپھو جان چوتھی جماعت میں ۔ حکومت کسی کی بھی ہو اقتدار انہی گھرانوں میں رہتا ہے۔ ن لیگ کی حکومت میں ننھیال کا اقتدار ، پیپلز پارٹی کی حکومت مین ددھیال کا اقتدار اور تحریک انصاف کی حکومت میں سسرال کا اقتدار۔ ان کے حصے کے بے وقوف البتہ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ رہے ہوتے ہیں ، گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور یہ اپنے اہل و عیال سمیت مزے کر رہے ہوتے ہیں۔


تحریک انصاف نے نعرہ دیا تھا کہ ہم موروثیت کا خاتمہ کریں گے لیکن انجام کیا ہوا؟


وزیر دفاع پرویز خٹک تھے ۔ ان کے بھائی لیاقت خٹک کے پی کے میں صوبائی وزیر تھے۔ ان کے صاحبزادے ابراہیم خٹک ایم پی اے ہیں اور پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے ۔ پرویز خٹک کے داماد ڈاکٹر عمران خٹک نوشہرہ سے ایم این اے تھے ۔ ان کی بھتیجی ساجدہ بیگم اور ان کی اہلیہ کی بہن نفیسہ خٹک مخصوص نشستوں پر ایم این اے تھیں ۔

اسد قیصر قومی اسمبلی کے سپیکر تھے ۔ 2013 میں دو قومی اور صوبائی دو نشستوں سے جیتے تو صوبائی نشست خود رکھ لی اور ضمنی الیکشن میں اپنے بھائی عاقب اللہ کو ایم این اے بنوا لیا ۔ 2018میں بھی وہ انہی دو نشستوں سے کامیاب ہوئے تو قومی اسمبلی کی نشست خود رکھ لی اور ضمنی الیکشن میں عاقب اللہ کو پارٹی ٹکٹ دلوا دیا ۔ ایک بھائی سپیکر بن گیا اور دوسرا بھائی ایم پی اے تھا ۔

گوہر ایوب خان کے صاحبزادے عمر ایوب خان وفاقی وزیر تھے ۔ ان کے کزن اکبر ایوب خان جو پوری دس جماعتیں پاس تھے ، اس وقت کے پی کے حکومت میں تعلیم کے وزیر بن بیٹھے ۔ دوسرے کزن ارشد ایوب خان ایم پی اے تھے ۔ لیکن شکر ہے تحریک انصاف میں موروثیت نہیں تھی۔

شہرام خان ترکئی کے پی کے حکومت میں وزیر تھے ۔ ان کے والد لیاقت خان ترکئی تحریک انصاف کے سینیٹر تھے ۔ ان کے چچا عثمان ترکئی تحریک انصاف کے ایم این اے تھے ۔ ان کے ایک اور چچا محمد علی ترکئی کے پی اسمبلی کے رکن تھے اور پارلیمانی سیکرٹری تھے ۔ البتہ شکر کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے۔


طویل فہرست ہے جو کالم میں بیان ہی نہیں کی جا سکتی اور ہر جماعت کا یہی حال ہے۔ اقتدار ان ہی گھرانوں کے پاس ہوتا ہے ، بس وہ اتنا کرتے ہیں کہ الیکشن کے پہلے ہوا دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اس بار حکومت میں جانے کے لیے کس کے حصے کے بے وقوفوں کا کندھا استعمال کرنا زیادہ سود مند رہے گا۔


اس بندو بست پر سوال اٹھایا جائے تو جواب آتا ہے یہ موروثی سیاست تو امریکہ اور بھارت میں بھی ہے۔ بالکل ہے لیکن کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ کس تناسب سے ؟ امریکی کانگریس میں6 فیصد ، بھارت میں اس وقت 18 فیصد جب کہ پاکستان میں57 فیصد۔ سوال اب یہ ہے یہ جمہوریت ہے یا چند خاندانوں کے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کا ایک شیطانی بندوبست جس میں دولت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے؟

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

ویسے ایک بات تو بتائیے : کہیں آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف تو نہیں؟

دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *