بلوچستان کی غیور بیٹیاں آج بھی تمام تر خطرات کے باوجود فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار فورسز اور عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

May 17, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ماہرین نے ایران پر ممکنہ حملوں کی صورت میں عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

May 17, 2026

امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں بریفنگ کے دوران پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کا اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا ہے۔

May 16, 2026

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔

May 16, 2026

کابل میں فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے بعد افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادری میں شدید خوف، غم و غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔

May 16, 2026

محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی وزیرِ داخلہ سے ملاقات میں خطے میں امن کے لیے آرمی چیف کے کردار کی تعریف کی گئی۔

May 16, 2026

نوآبادیاتی بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جس ملک کی بیوروکریسی کے 22 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت ہو کیا اس ملک کی معیشت درست ہو سکتی ہے؟ جس ملک کے 22 ہزار فیصلہ ساز اس انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ریٹائر ہوں اور اپنے دوسرے “وطن” منتقل ہو جائیں ، جنہیں پاکستان میں رہنا تک گوارا نہ ہو ، ان کے فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟
نوآبادیاتی بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی

پاکستان میں فیصلہ سازی کی رگ جاں بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ایک نوآبادیاتی بندوبست ہے۔ مقابلے کا امتحان پاس کر کے ایک نوجوان کو ہر شعبے کا ماہر بنا دیا جاتا ہے۔ وہ ڈاکٹر، استاد اور کاروباری افراد کو ان کے ہی کام کے اصول سکھاتا ہے۔ ہر سال مختلف وزارت اس کے پاس ہوتی ہے، مگر تجربہ کسی شعبے کا نہیں ہوتا۔ کیا اس سے مضحکہ خیز صورت حال بھی کوئی ہو سکتی ہے۔

May 16, 2026

معیشت اس وقت ہمارا بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس نو آبادیاتی بیوروکریسی کے ہوتے ہوئے معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہ کوئی جذباتی بات نہیں یہ میری شعوری رائے ہے کہ معیشت اور یہ بیوروکریسی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ معیشت ٹھیک کرنی ہے تو پہلے بیوروکریسی کو ٹھیک کرنا ہو گا اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر معیشت کو بھول جائیے اور اس بیوروکریسی کے نخرے اٹھاتے رہیے ۔

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جس ملک کی بیوروکریسی کے 22 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت ہو کیا اس ملک کی معیشت درست ہو سکتی ہے؟ جس ملک کے 22 ہزار فیصلہ ساز اس انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ریٹائر ہوں اور اپنے دوسرے “وطن” منتقل ہو جائیں ، جنہیں پاکستان میں رہنا تک گوارا نہ ہو ، ان کے فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟

پاکستان میں فیصلہ سازی کی رگ جاں بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز نوآبادیاتی بندوبست ہے۔ یہاں مقابلے کا امتحان پاس کر کے ایک نوجوان کو ٹارزن بنا لیا جاتا ہے۔ پھر وہ سپر مین بن جاتا ہے ، وہ کبھی بیس سال پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر کو اس کے پیشے کے آداب سکھاتا ہے تو کبھی تیس سال پڑھانے والے استاد کو پڑھانا سکھا رہا ہوتا ہے۔ کبھی وہ چار نسلوں سے کاروبار کرنے والوں کو کاروبار کے آداب بتا رہا ہوتا ہے ۔ ایک سال اس کے پاس کھیلوں کی وزارت ہوتی ہے اور وہ اپنی غیر معمولی بصیرت سے کھیلوں کی دنیا سنوار رہا ہوتا ہے ، دوسرے سال وہ وہ ثقافت کی وزارت کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور وطن عزیز میں ثقافت کے رہنما اصول وضع فرما رہا ہوتا ہے ۔ ہر معاملے میں فیصلہ اس کا ہے لیکن تجربہ اور مہارت سے کسی شعبے کی نہیں ہے۔ کیا اس سے مضحکہ خیز صورت حال بھی کوئی ہو سکتی ہے۔

یہ نظام انگریز کے دور غلامی میں چل سکتا تھا ۔ انگریز کو یہاں کے سماج کی فلاح و بہبود سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ اس کی اولین ترجیح صرف امن کا قیام تھا (تا کہ اس کے قبضے کے خلاف کوئی سر نہ اٹھائے) اور یہاں کے وسائل کی لوٹ مار۔ یہ بیوروکرویسی اس کام کے لیے انتہائی موزوں تھی ۔ افسران کو آقا بنایا گیا تھا ۔ وہ عوام میں سے نہیں تھے ۔ انہیں عوام سے دور الگ محلات نما رہائش گاہیں دی گئیں ، غیر معمولی مراعات دی گئیں ۔ ایک خاص طرز پر ذہن سازی کی گئی۔

ہم نے پاکستان بنانے کے بعد اس ذہن کو نہیں بدلا۔ وہی افسر شاہی ہے۔ وہی نوآبادیاتی سوچ ہے۔ عوام سے دور ۔ اجنبی زبان میں بات کرنا واحد مہارت۔ گردن میں سریا۔ غیر معمولی مراعات۔ کوئی احتساب کا نظام نہیں ۔ امریکی صدر کا وائٹ ہاؤس 147 کنال کا اور سرگودھا کے کمشنر کا سرکاری محل 107 کنال کا۔ ان کے لیے الگ محلات ، ان کے لیے الگ کلب ۔ یہ آج بھی نوآبادیاتی آقا ہیں اور عوام ان کے لیے صرف رعایا ہے۔ یہ پبلک سرونٹ نہیں ہیں ، یہ چھوٹے چھوٹے وائسرائے ہیں۔

اس پر مزید یہ کہ ان میں سے22 ہزار کے پاس غیر ملکی شہریت ہے۔ اراکین اسمبلی کے پاس اگر دہری شہریت ہو تو وہ نا اہل قرار پاتے ہیں ۔ آئین میں اس بات پر پابندی ہے کہ کسی رکن پارلیمان کے پاس دہری شہریت ہو لیکن بیوروکریسی کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں ۔ حالانکہ اصل فیصلہ ساز تو یہ ہیں۔ تو جو دو ملکوں کا شہری ہے اور آپ کی قسمت کے فیصلے کر رہا ہے کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ ان دو میں سے کس ملک کا وفادار ہے؟

دو بڑے اہم سنگینن اور بنیادی مسائل ہیں۔

ایک تو یہ کہ اس بیوروکریسی کے اخراجات اور مراعات اتنی ہیں کہ ملک سے سونا اور تیل بھی نکل آئے تو خوشحالی نہیں آ سکتی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق ہمارے بیورکریٹ کی اوسط تنخواہ اقوام متحدہ کے سٹاف کی تنخواہ سے 12 فیصد زیادہ ہے۔ سبزیوں کے ریٹ چیک کرنے والے ایک نوجوان اے سی کو یہاں کروڑوں کی گاڑی ملی ہوئی ہوتی ہے۔ سینکڑوں کنال پر افسر شاہی کی سرکاری رہائش گاہیں ہیں۔ آپ یا ان کے نخرے اٹھا لیں یا ملک کی معیشت ٹھیک کر لیں ۔ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔

دوسرا مسئلہ ان کا رویہ ہے۔ یہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ یہ اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ آپ کسی بھی کاروباری شخصیت سے پوچھ لیجیے ، وہ ان کے رویے کی شکایت کرتا نظر آئے گا۔ ایک اعتراض ، پھر دوسرا اعتراض ، سرمایہ کاری کو انہوں نے اپنے روایتی رویے سے مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے سرمایہ کاری ہو ہی نہیں ہو سکتی۔ کوئی شریف آدمی یہاں سرمایہ کاری آ بھی جائے تو افسر شاہی اسے دن میں تارے دکھا دیتی ہے۔ کبھی ایک بابو کوئی اعتراض لگا دے گا ، کبھی دسرا بابو ۔ یہاں وہ ماحول ہی نہیں جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے۔

کچھ ماہ پہلے پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر جانب جناب ڈاکٹر علی عواض العسیری نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان میں معیشت کا پوٹینشل تو بہت ہے لیکن پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں غیر معمولی بیوروکریٹک رکاوٹیں حائل ہیں۔سوال یہ ہے کہ جو بات محترم سابق سفیر کو معلوم ہے وہ ہمارے حکمرانوں کو کیوں سمجھ نہیں آ رہی؟

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان کی غیور بیٹیاں آج بھی تمام تر خطرات کے باوجود فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار فورسز اور عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

May 17, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ماہرین نے ایران پر ممکنہ حملوں کی صورت میں عالمی معیشت اور سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

May 17, 2026

امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل کوپر نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں بریفنگ کے دوران پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کا اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیا ہے۔

May 16, 2026

کالعدم بی ایل اے کے اندرونی دھڑوں میں کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی، بشیر زیب گروپ نے اہم کمانڈر کے بھائی کو ہلاک کر دیا، جبکہ تنازع کی وجہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اغوا بتایا جا رہا ہے۔

May 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *