معرکہ حق پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ غیر معمولی کامیابی جس نے جنوبی ایشیا کی تزویراتی ترتیب کو الٹ دیا۔ آپ چاہیں تو “جنوبی ایشیا” کی جگہ “دنیا” بھی پڑھ سکتے ہیں ، اس میں ہر گز کوئی مبالغہ نہ ہو گا۔ جنگوں کی صف بندی اور حساب سودو زیاں کے سارے میزانیے پاکستان نے لمحوں میں بدل دیے۔آئیےا س بات کو درست تناظر میں سمجھتے ہیں کہ ہوا کیا تھا اور پاکستان نے کیا کچھ بدل دیا تھا۔
کبھی آپ نے اس سوال پر غور کیا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات کیسے کی؟ وہ کیا کیلکولیشن تھی جس نے بھارت کو اس حماقت پر آمادہ کیا ۔ آخر پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت تھا ۔ پھر بھارت اور پاکستان پڑوسی ملک تھے ، یہ ایران اور اسرائیل کی طرح ایک دوسرے سے فاصلے پر نہیں تھے کہ بیچ میں دو ملک پڑتے ہوں اور میزائل فائر ہونے کی صورت میں دوسرے ملک کو سنبھلنے کا وقت مل جائے ۔ یہاں تو صورت حال یہ تھی کہ میزائل فائر ہونے کا علم ہوتے ہوتے وہ ٹارگٹ ہٹ بھی کر چکا ہوتا۔ لاہور سے دلی کا فاصلہ ہی کتنا ہے؟
ایک اور سنگین خطرہ بھی موجود تھا ۔ اور وہ تھا نیوکلیئر تھریش ہولڈ۔ یعنی وہ وقت جب کوئی ملک یہ سمجھے یہ اب اس کی سلامتی کے لیے لازمی ہو چکا ہے کہ ایٹمی اسلحہ استعمال کیا جائے۔ باقی ملکوں کی لڑائی میں نیوکلیئر تھریش ہولڈ ہفتوں اور مہینوں پر بھی موخر رہ سکتا ہے لیکن پاکستان اور بھارت کی جنگ میں تو یہ نوبت ایک ہفتے سے کم وقت میں بھی آ سکتی ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے حملہ کیا ۔ کیوں کیا؟
جب تک ہم اس کیوں کا جواب تلاش نہیں کرتے تب تک ہمیں معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے پچھلے سال مئی میں کیا کارنامہ انجام دیا۔ میری معلومات بھی ظاہر ہیں کہ انتہائی محدود ہیں اور میں صرف دستیاب معلومات کی بنیاد پر رائے دے رہا ہوں اور اس کے باوجود معرکہ حق کا تذکرہ آتا ہے تو وجود سرشار ہو جاتا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت کو جو جتنا جانتا ہے وہ پاکستان کی جنگی مہارت کا اتنا ہی گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستان کی تعریفیں کرتے تھک نہیں رہا تو یہ بے سبب نہیں ہے۔ یہ معرکہ حق کی اس کامرانی کا اعتراف ہے جس نے جنگ کے سارے اصول بدل دیےا ور سارے اندازے اور جمع تقسیم کو سندور لگا کر گنگا میں غرق کر دیا۔
بھارت کی جنگی جمع تقسیم کو سمجھتے ہیں ۔ یہ بڑی واضح ہے۔ اس کے تین بڑے پہلو ہیں ۔
پہلا یہ کہ بھارت کا خیال تھا پاکستان کی معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ کئی سالوں سے دیوالیہ ہونے کے خطرے کی باتیں ہو رہی ہیں تو اس حالت میں یہ کیسے جنگ کرے گا۔
دوسرا یہ کہ بھارت کا خیال یہ تھا کہ ملک میں ایک سیاسی قوت فالٹ لائن بن چکی ہے ، ابلاغ کی دنیا کامیابی کے ساتھ پاکستان پر انفارمیشن وار مسلط کی جا چکی ہے اور کسی بھی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی قوم میں اتفاق اور یکجہتی نہیں ہو گی اس لیے اسے دباؤ میں لانا آسان ہو گا۔ وہ لڑ نہیں سکے گا۔
تیسرا یہ کہ پاکستان کے دو صوبوں میں بھارت اپنی پراکیسیز کے ذریعے دہشت گردی کو انتہا پر لے جا چکا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ پاکستان کی فوج مغربی سرحدوں کی جانب مصروف ہے اور اس کے لیے مشرق میں بھارت سے الجھنا ممکن نہیں ہے۔
چوتھا زعم بھارت کو یہ تھا کہ اسرائیل اپنی عسکری قوت کے ساتھ بھارت کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا اور اسرائیل کی حمایت کا مطلب اور کس ملک کی حمایت ہوتی ہے یہ آپ سب جانتے ہیں ۔ اس کا خیال تھا کہ ایسے میں پاکستان خاموش رہے گا ۔
چنانچہ بھارت نے سمجھا کہ پاکستان پر حملہ ہوتا ہےا ور وہ جواب نہیں دے گا اور یوں پاکستان کی قومی سلامتی سے کھلواڑ کرنا ایک نیو نارمل ہو جائے گا۔ یعنی جیسے اسرائیل کا جب جی چاہتا ہے وہ پڑوس کے ممالک پر حملہ کر لیتا ہے اسی طرح بھارت جب چاہے گا پاکستان کے خلاف محدود کارروائی کر لیا کرے گا۔ بھارتی قیادت کو یقین تھا جو بالادست حیثیت صہیونیت کو مشرق وسطی مین حاصل ہے وہی بالادست حیثیت ہندتوا کو جنوبی ایشیا میں حاصل ہو جائے گی اور پاکستان کا نیوکلیئر ڈیٹرنٹ عملا بے معنی ہو جائے گا۔
یہ بہت ہی خطرناک صورت حال تھی ۔ پاکستان نے اس جارحیت کے جواب میں جو فیصلہ کرنا تھا وہ بڑا ہی دور رس ہونا تھا۔ مصلحت یا مزاحمت جو بھی فیصلہ ہوتا اس کے اثرات عشروں پر محیط ہونے تھے ۔
پھر یہ ہوا کہ پاکستان نے جواب دیا اور ایسا جواب دیا کہ اس کی گونج دنیا میں سنائی دی۔ افواج پاکستان سرخرو ہوئیں اور ان کے ساتھ پوری قوم سرخرو ہوئی۔ یہ معاملہ بھی درست تناظر میں سمجھ لیجیے ۔
مودی نے چند سال پہلے بڑھک لگائی تھی کہ ہمارے پاس رافیل ہوتے تو پاکستان ہمارے طیارے نہ گراتا ۔ اس بات وہ رافیل لے کر آیا اور پاکستان نے ان کے ماتھے پر سیندور لگا کر ان کی ڈولی زمین پر اتار لی۔
پاکستان نے ہر جہاز کو نہیں گرایا ، صرف ان جہازوں کو گرایا جنہوں نے اپنا ویپین آف لوڈ کیا تھا یعنی جنہوں نے میزائل فائر کیے تھے۔ اس کا کیا مطلب ہے، اس کا مطلب ہے کہ کتوں کو جیسے چن چن کر مارا جا سکتا ہے پاکستان نے انہیں ایسے مارا ۔ چن چن کر مارا ۔ مرضی کا ہدف چنا اور اڑا دیا۔ یہ مہارت اور صلاحیت کی انتہا تھی۔
یہ ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت بھی تھا کہ ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پرا ڑتے رہے ۔
اس کے بعد کیا ہوا۔ بھارت اسرائیل کے ڈرون اور میزائلوں سے حملہ آور ہوا ۔ پاکستان نے اب تک سٹریٹیجک پیشنس یعنی صبر کا مظاہرہ کیا تھا ۔ جب یہ ہوا تو پاکستان نے کہا اب پورے ہند کی مانگ میں سیندور بھرنے کا وقت آ گیا ہے ۔ چنانچہ 10 مئی کی رات کو پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور ایسی کارروائی کی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ بھارت اندھا ہو چکا تھا ، اس کے راڈار کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ اسے کچھ معلوم نہ تھا کیا ہو رہا ہے۔ اس کا کمیونیکیشن جام ہو چکا تھا۔ کسی کو کچھ خبر نہ تھی ساتھ میں کیا ہو رہا ہے۔ پاکستان نے کئی گھنٹے بھارت کی فضاؤں میں راج کیا ۔ جب جہاں جسے چاہا اڑا دیا۔
ایک روز میں نے ایک ایر مارشل سے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا ، کیا پاکستان کا حملہ اتنا اچانک تھا کہ بھارت اس سرپرائز سے نہ سنبھل سکا۔ یا یہ پاکستان کی برتری تھی کہ بھارت ہل بھی نہ سکا۔ اس کا ایک جہاز بھی مقا بلے کے لیے فضا میں بلند نہ ہو سکا۔
وہ کہنے لگے کہ یہ سرپرائز تو تھا لیکن جنگ میں حملہ تو متوقع ہی ہوتا ہے۔ اصل سرپرائز یہ تھا کہ پاکستان نے اس مہارت اورا علی جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کیا کہ بھارت دلدل کی بطخ کی طرح مار کھاتا رہا اور ہل تک نہ سکا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر جب بار بار کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو ہم نے اپنی صرف دس فیصد صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے تو اس میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ ہماری غیر معمولی جنگی صلاحیت کا اعلان ہے۔
یہ اعتماد ایسے ہی نہیں آتا کہ اسرائیل اور بھارت مل کر حملہ کررہے ہوں اور ڈی جی آئی ایس پی آر مسکرا کر للکار رہا ہوکہ آو اگر تمہارے چاؤ ابھی بھی پورے نہیں ہوئے تو ہم انہیں پورا کر دیں۔ ہمت ہے تو آ جاؤ ، اوپر سے نیچے سے دائیں سے بائیں جدھر سے جی چاہے آو تمہارا حشر نہ کر دیا تو پیسے واپس۔
جنگ کے سارےا صول ا ور ساری تخمینےا س دن پاکستان نے بدل دیے۔ اس سے پہلے حساب کتاب ہوتا تھا کہ بھارت کےا س اتنے جہاز اور اتنی فوج اور اتنا اسلحہ اور پاکستان کے پاس اتنے جہاز ور اتنی فوج ا ور اتنا اسلحہ۔ اس جنگ نے ساری ترتیب الٹ دی۔ روایتی جنگ میں بھارتی برتری کے سارے دعوے برباد کر دیے۔ اب جنگ کی ایک نئی قسم متعارف ہو چکی تھی۔ پاکستان کی صلاحیت نے بھارت کی تزویراتی گہرائی کے سارے مغالطے ادھیڑ کر رکھ دیے۔ اب یہ نئی جنگ تھی ، نئے اصول تھے ، نئی مہارت تھی اور پاکستان جب اسے بروئے کار لایا تو مقابلہ تو دور کی بات ہے بھارت جواب تک نہ دے سکا۔
یہ بھارت کی شکست ہی نہیں تھی ، یہ اسرائیل کے منہ پر بھی طمانچہ تھا اور یہ ا سرائیل ہی کے منہ پر طمانچہ نہ تھا یہ اس بات کا اعلان بھی تھا کہ مغرب کی اسلحہ ساز برتری کے دن تمام ہوئے ۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ پاکستان اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں وہاں کھڑا ہے کہ جس نے سینگ پھنسائے وہ بھسم ہو جائے گا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نیوکیئر تھریش ہولڈ تو دور کی بات ہے ہم تمیں جدید ٹیکنالوجی سے ہی گنگا بہا دیں گے۔
دنیا ایسے نہیں ہل گئی تھی۔ پاکستان نے بدلتے موسموں کا اعلان ہی ایسے کیا تھا ۔ ٹرمپ ایسے گن نہیں گا رہا تھا ، اس کے پیچھے بدلتے وقتوں کی منادی تھی۔
جس قوم کو انہوں نے تقسیم سمجھا تھا وہ بنیان مرصوص بن گئی۔ میزائل چلتے وقت لوگ ایسے پاس بیٹھ کر مشاہدہ کر رہے تھے جیسے اپنی نگرانی میں چلوا رہے ہوں ، جیسے میلے پر آئے ہوں۔ لوگوں نے گھروں سے بندوقیں نکال لیں اور ڈرون گرانے چل پڑے۔ کوئی منظر سا منظر تھا۔
یہ اللہ کی مدد تھی جو اس روز اتری ا ور ہم سب نے اترتی دیکھی۔
یہ ہماری تاریخ کا بڑا دن ہے۔ اس دن جنگوں کی ترتیب بدل دی گئی۔ جنگیں اب ویسے نہیں لڑی جائیں گی جیسے 10 مئی سے پہلے لڑی جاتی تھیں ۔
دیکھئیے:معرکۂ حق کا ایک سال: پاکستان نے کیا کھویا، کیا پایا؟