Author: نیوز ڈیسک

راولپنڈی میں دورانِ خطاب مولانا فضل الرحمان کے بیان کے بعد سرحدی سکیورٹی، دہشت گردی، افغان تعلقات اور پاکستان کی بارڈر پالیسی پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانونی تجارت اور غیر قانونی دراندازی میں فرق، دہشت گرد نیٹ ورک کی پیچیدگیاں اور پاکستان کی کوششیں زیرِ غور ہیں

February 9, 2026

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت اعلانیہ کوڑے مارنے، قید کی سزائیں اور خواتین پر پابندیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس نے انسانی حقوق کے عالمی خدشات کو مزید اجاگر کر دیا ہے

February 8, 2026

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق امام بارگاہ حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا

February 8, 2026

نیشنل انٹرسٹ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ بلوچستان میں تشدد کو محض معاشی تحفظات سے جوڑا جائے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی شکایات دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتیں اور بی ایل اے ایک واضح دہشت گرد تنظیم ہے، جسے پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور چین باضابطہ طور پر دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں۔

February 8, 2026

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

February 8, 2026

پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔

February 8, 2026

میگزین میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے افغانستان کے راستے دراندازی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

February 8, 2026

اس المناک واقعے کی اطلاع یکم فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خاندان کو ملی۔ نوشکی سے آنے والی فون کال میں بتایا گیا کہ ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک خطیب کو بی ایل اے کے حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

February 8, 2026

جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی کے مہتمم اور ممتاز دینی رہنما مفتی نعمان نعیم نے اسلام آباد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا بدترین دہشت گردی ہے اور ایسے جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

February 8, 2026

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔ ہری پور، ایبٹ آباد، باڑہ بازار، مردان، صوابی، کوہاٹ، لنڈی کوتل، ڈیرہ اسماعیل خان اور حتیٰ کہ پشاور میں بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ رواں دواں رہی اور کسی بڑے احتجاج یا شٹر ڈاؤن کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔

February 8, 2026