"> کابل میں سابق امریکی سفارت خانہ مدرسہ بن گیا؛ ناقدین نے افغان حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے - HTN Urdu
مددگار یا مکار؟ ایجوکیشن کنسلٹنٹ یا فراڈ کا ماہر؟

مددگار یا مکار؟

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

کابل میں سابق امریکی سفارت خانہ مدرسہ بن گیا؛ ناقدین نے افغان حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کابل میں سابق امریکی سفارت خانہ مدرسہ بن گیا؛ ناقدین نے افغان حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں طالبان کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رسمی اسکول اور جامعات، خصوصاً لڑکیوں کے لیے، یا تو بند ہیں یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔

February 8, 2026

کابل میں بند امریکی سفارت خانے کے ایک حصے کو طالبان کی جانب سے مذہبی مدرسے میں تبدیل کرنا اُن کے مجموعی طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ریاستی اور بین الاقوامی نوعیت کی اہم عمارتوں کو سفارتی، انتظامی یا عوامی مقاصد کے بجائے نظریاتی اہداف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق طالبان اس اقدام کے ذریعے کثیرالجہتی حکمرانی اور عالمی برادری سے روابط کو مسترد کرتے ہوئے ایک محدود نظریاتی نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق امریکی سفارت خانے کے احاطے میں بچوں اور کم عمر طلبہ کو مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام تعلیمی نظام اب جدید مضامین، تنقیدی سوچ اور شہری شعور سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ صرف وہی مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے جو طالبان کے مخصوص نظریے سے ہم آہنگ ہو۔ لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور جامعات کی مسلسل بندش اس امر کو مزید واضح کرتی ہے کہ مسئلہ تعلیم تک رسائی کا نہیں بلکہ نظریاتی کنٹرول کا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام طالبان کے اُس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت 2021 کے بعد افغانستان کے عوامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو ازسرِنو نظریاتی سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔ سرکاری عمارتیں، تعلیمی ادارے اور انتظامی مراکز بتدریج غیرجانبدار ریاستی اداروں کے بجائے مذہبی اتھارٹی کے ماتحت آتے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں طالبان کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ رسمی اسکول اور جامعات، خصوصاً لڑکیوں کے لیے، یا تو بند ہیں یا شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں خوراک کی امداد، روزگار یا سماجی سہولیات تک رسائی کو طالبان کی منظور شدہ مذہبی تعلیم سے مشروط کیا جا رہا ہے، جسے ماہرین ایک جابرانہ نظام قرار دیتے ہیں جو بچوں کو انتہا پسند نظریات کے زیرِ اثر ماحول میں دھکیل رہا ہے۔

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

October 17, 2026

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔

October 17, 2026

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

October 17, 2026

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

October 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *