خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

July 3, 2026

یوناما رپورٹ میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ؛ پس منظر اور پاکستانی دفاعی اقدامات کا تفصیلی جائزہ

پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔
یوناما رپورٹ میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ؛ پس منظر اور پاکستانی دفاعی اقدامات کا تفصیلی جائزہ

حقیقت یہ ہے کہ افغان شہری خود پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہیں۔ مارچ 2022 تا ستمبر 2025 کے دوران متعدد خودکش حملے اور گاڑی بم دھماکے افغان شہریوں نے کیے، جیسے اسلام آباد امام بارگاہ دھماکہ، بنوں اور دیگر مقامات پر حملے، جو افغان علاقوں سے منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے ذریعے انجام پائے۔

February 8, 2026

اقوام متحدہ کے مشن برائے امداد افغانستان (یوناما) نے اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران پاکستان کی سرحد پار کارروائیوں کے نتیجے میں افغان شہریوں کے ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں 70 ہلاکتیں اور 478 زخمی ہونے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فوجی کارروائیوں میں شہری متاثر ہوئے اور گھروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ 15 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی حملے جاری رہے۔

تاہم، رپورٹ میں بنیادی اور اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یوناما نے اپنی حد بندی صرف افغان شہریوں تک رکھی، جبکہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں کو خارج کر دیا، حالانکہ یہ واقعات بھی اسی سرحد پار کشیدگی اور دہشت گردانہ حملوں سے متعلق ہیں۔ اس سے رپورٹ کے نتائج جزوی اور غیر متوازن دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔

پاکستان مسلسل دہشت گردانہ حملوں کی زد میں ہے۔ 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی کے نتیجے میں 1,957 افراد ہلاک اور 3,603 زخمی ہوئے، جب کہ اسی دوران 3,079 دہشت گرد ناکارہ بنائے گئے، جن میں 245 افغان شہری بھی شامل تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں دفاعی اور محدود تھیں، نہ کہ بلاوجہ جارحیت۔

یوناما نے طالبان حکومت سے حاصل کردہ ڈیٹا پر زیادہ انحصار کیا ہے، جو عموماً پروپیگنڈہ پر مبنی اور غیر معتبر ہوتا ہے۔ دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائی کے بعد طالبان حکام اکثر شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کرتے ہیں، جسے یوناما نے بغیر آزاد تصدیق کے رپورٹ میں شامل کیا۔ یہ طریقہ کار رپورٹ کے معروضی اور حقیقی تجزیے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افغان شہری خود پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل ہیں۔ مارچ 2022 تا ستمبر 2025 کے دوران متعدد خودکش حملے اور گاڑی بم دھماکے افغان شہریوں نے کیے، جیسے اسلام آباد امام بارگاہ دھماکہ، بنوں اور دیگر مقامات پر حملے، جو افغان علاقوں سے منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے ذریعے انجام پائے۔

رپورٹ میں دہشت گردوں کے سوشل اور مذہبی مظاہر، جیسے جنازے اور تعزیتی اجتماعات، بالکل نظر انداز کیے گئے ہیں، حالانکہ یہ دہشت گردانہ نظریات کی بین الاقوامی سطح پر ترویج اور معمول بن جانے کا ثبوت ہیں۔ مثال کے طور پر، اکتوبر میں مولوی صدام کے تعزیتی اجتماع کا انعقاد نہ صرف قندوز بلکہ فرانس میں بھی ہوا، جس میں افغان مہاجرین نے شرکت کی۔

پاکستان نے طالبان کے اقتدار کے بعد بھی ہر ممکن سفارتی کوشش کی، جس میں چار وزرائے خارجہ کے دورے، دو وزیر دفاع/آئی ایس آئی کے مشن، پانچ خصوصی نمائندوں کے دورے، پانچ سیکریٹری سطح کی میٹنگز، ایک این ایس اے دورہ، آٹھ مشترکہ اجلاس اور 836 سرحدی فلیگ میٹنگز شامل ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود دہشت گردانہ حملے جاری رہے، جس کے بعد پاکستان نے صرف تصدیق شدہ ٹی ٹی پی ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی کارروائیاں کیں۔

نتیجتاً، یوناما کی رپورٹ پاکستانی دفاعی اقدامات کی حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے اور طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کی ذمہ داری کو چھپا دیتی ہے۔ رپورٹ کے تجزیے میں سبب اور نتیجہ کے تسلسل کو نظرانداز کیا گیا، جس سے پاکستانی کارروائیوں کو غیر مناسب اور بلاوجہ دکھایا گیا۔

یہ رپورٹ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کی تمام رپورٹس میں طالبان کی دہشت گردی کی حمایت اور سرحد پار دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر کو شفاف طور پر شامل کیا جائے، تاکہ افغان شہری نقصان کے حقائق اور دہشت گردانہ خطرات کا مکمل اور معروضی تجزیہ سامنے آ سکے۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *