اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ زلمے خلیل زاد اس وقت امریکی خارجہ پالیسی میں کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں، اس کے باوجود وہ ذاتی آراء کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں جیسے وہ کسی باضابطہ پالیسی کی نمائندگی ہوں۔ ناقدین کے مطابق اس طرزِ گفتگو سے طالبان کے حق میں ایک جھوٹی ساکھ اور سیاسی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔